Urdu book · رہنماے حیات

حقیقت پسندی

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی حالت میں دانش مندی کا تقاضا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملہ کو خیر اور شر یا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ اس کو ممکن اور ناممکن کی نظر سے دیکھا جائے ۔ پھر جو چیز عملی طور پر ممکن ہے اس کو لیا جائے اور جو چیز عملی طور پر ناممکن ہے اس کو چھوڑ دیا جائے۔ اس معاملہ کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کے مسئلہ پر نزاع پیدا ہوئی جو اس کے بعد پچاس برس تک چلتی رہی۔ یہودیوں کا یہ کہنا تھا کہ دو فریقوں کے درمیان امن کا معاہدہ ہو جائے۔ لیکن عرب اس کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ امن صرف عدل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے، عدل نہیں تو امن بھی نہیں۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود عربوں کا یہ نظریہ فیل ہو گیا اور بیسویں صدی کے آخر میں انھوں نے عدل کی شرط کو پس پشت ڈال کر صرف امن کے مقصد کے تحت اسرائیل سے معاہدہ کر لیا۔ نظری طور پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ جب دو فریقوں میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو ان کے درمیان امن کا قیام عدل کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ آئیڈیلزم کے اعتبار سے یہ نظریہ بہت اچھا ہے مگر عملی اسباب بتاتے ہیں کہ اس قسم کا آئیڈیل کبھی قابل حصول نہیں ہوتا۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی نظری انصاف پر اصرار نہ کرے بلکہ عملی انصاف پر راضی ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ بریکٹ کرنا بجائے خود غلط ہے۔ اس دنیا میں امن انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن کا تعلق مواقع کار سے ہے، نہ کہ عدل و انصاف سے۔ امن اس لیے حاصل نہیں کیا جاتا کہ اس کے ساتھ انصاف حاصل ہو جائے۔ بلکہ امن اس لیے قائم کیا جاتا ہے تاکہ وہ مواقع کار حاصل ہوں جن کو استعمال کر کے عدل وانصاف تک پہنچا جاسکے۔ مثال کے طور پر ۱۹۳۸ میں فلسطین کی جو صورتحال تھی اس میں عربوں کو فلسطین کا بیشتر حصہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت دانش مندانہ پالیسی یہ تھی کہ اس صورتحال کو قبول کر کے یہودیوں سے وہ صلح کر لی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page