Urdu book · رہنماے حیات

صحیح طرز فکر

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسفہ اور سائنس کے اس فرق کو بطور علامت لیتے ہوئے میں کہوں گا کہ جو آدمی اپنے تھنکنگ پراسس (thinking process) کو کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچانا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ ’’فلا سفر‘‘ نہ بنے بلکہ وہ ’’سائنٹسٹ‘‘ بنے۔ یعنی فطرت کے نظام کے مطابق، وہ جن باتوں کو جان سکتا ہے ان کو وہ جاننے کی کوشش کرے۔ اور جن باتوں کو وہ اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتا ان کے بارے میں وہ اجمالی علم پر قناعت کرے۔ اسی حقیقت کو ایک عالم نے ان الفاظ میں بیان کیا: ابھمو ا ما ابهمه الله (جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا تم بھی اس کو مبہم رکھو) علم کے دو پہلوؤں میں فرق کے اصول کو ملحوظ رکھنے کی یہی واحد تدبیر ہے جو آدمی کو کنفیوزن (confusion) سے بچا سکتی ہے جو کہ صحیح نتیجہ فکر تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو جانے کہ کنفیوزن کیا ہے اور رائٹ تھنکنگ (right thinking) کیا، اس نے گویا وہ چیز پالی جو موجودہ دنیا میں علم کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ظاہر (appearance) اور حقیقت (reality) میں فرق کرے۔ وہ صرف گہرے تجزیہ کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔ اس کی ایک مثال کچھ لوگوں کی وہ بات ہے جو اکثر نقل کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ قرآن کو ڈسکرڈیٹ کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ قرآن ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں اترا جب کہ لوگ سادہ قسم کی فطری زندگی گزارتے تھے۔ اب بڑی بڑی ترقیاں ہو چکی ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ انسان کے لئے قدیم قرآن میں اپیل نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک سطحی بات ہے۔ آج جو ترقی ہوئی ہے وہ تمام تر تکنکل ترقی ہے اور قرآن کا خطاب انسانی فکر سے ہے نہ کہ فنی ترقیات سے۔ جہاں تک انسانی ذہن کے لیول کا تعلق ہے وہ آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ نفسیاتی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے یونان کے فلسفیوں کا جو درجہ فکر تھا وہ عین وہی تھا جو آج کے انسان کا درجہ فکر ہے۔ اس اعتبار سے آج کے انسان اور ماضی کے انسان میں کوئی فرق نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page