استعداد کا مسئلہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
استعداد کا مسئلہ اردن سے ایک عربی میگزین "الاجنحة" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ مارچ ۱۹۹۰ (صفحہ ۵۸) میں ایک عرب خاتون لیما نبیل کا ایک مضمون دیکھا۔ اس کا عنوان تھا: غرناطہ ــــــــ الفردوس المفقود (غرناطہ، فردوس گمشدہ) موصوفہ سیاح کے طور پر غرناطہ گئیں۔ وہاں انہوں نے عرب عہد کے آثار کو دیکھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ غرناطہ میں میں نے عرب تاریخ کو اپنے سامنے پایا اور اپنے ماضی کی عظمت کا مشاہدہ کیا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر وہ رو پڑیں ۔ وہ وہاں کے ایک ایک پتھر سے پوچھتی رہیں کہ یہاں عرب کی عظمت تھی اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئی (هنا كان المجد العربی وهنا ايضا بدأ الذل العربي قبل خمسمائة عام)۔ وہ جذباتی انداز میں لکھتی ہیں کہ عربوں نے یہاں اپنے قلعوں اور محلوں اور مسجدوں کو چھوڑ دیا، "وہ اس شہر سے عورتوں کی طرح روتے ہوئے نکلے ۔ وہ مردوں کی طرح اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ (ترکوا قلاعهم و قصورهم ومساجدهم۔ خرجوا من هذه المدينة يبكون مثل النساء۔ ملكا لم يحافظوا عليه مثل الرجال. و خرجتُ من غرناطة اطأطئي راسی و اسال نفسی ۔ الى متى سيستمر هذا الليل العربی۔ وماذا سيكتب التاريخ هنا) عرب خاتون نے اپنے اس تاثراتی جملہ میں غرناطہ کے آخری سلطان کی ماں کے قول کو دہرایا ہے۔ مگر یہ سادہ معنوں میں مرد اور عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی استعداد کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۹۷ میں ٹیپو مرد کی جنگ لڑے مگر وہ ہار گئے۔ ۱۹۷۱ میں اندرا گاندھی ایک عورت تھی مگر وہ پاکستان کے مقابلہ میں جیت گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرد اور عورت کا معاملہ نہیں۔ بلکہ قومی استعداد اور حالات کا معاملہ ہے۔ اگر حالات موافقت نہ کر رہے ہوں تو کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بہادری کے ساتھ لڑے، وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader