قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
قدرتی ڈھال چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خاں وحشی تاتاری فوج لے کر ۱۲۵۸ء میں بغداد میں داخل ہوا اور اس کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے بعد عرصہ تک وہ لوگ مسلم دنیا کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ بناتے رہے۔ امام ابن تیمیہ (۱۲۲۸-۱۲۶۳ء) کا زمانہ وہی ہے جو اس تاتاری فتنہ کا زمانہ ہے۔ دمشق میں ایک بار ابن تیمیہ ایک مقام سے گزر رہے تھے۔ اس مقام پر تاتاریوں کا ایک گروہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ اس وقت وہ لوگ شراب نوشی میں مشغول تھے۔ ابن تیمیہ کے بعض ساتھیوں نے چاہا کہ ان کے پاس جائیں اور ان کو شراب پینے سے روکیں۔ ابن تیمیہ نے اپنے ساتھیوں کو منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جب تک یہ لوگ نشہ کی حالت میں رہیں گے، مسلمان ان کی جارحیت سے محفوظ رہیں گے۔ ان کی ہوش کی حالت کے مقابلہ میں ان کی مدہوشی کی حالت زیادہ بہتر ہے (سكرهم خير من صحوهم) موجودہ دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کے لئے یہ ایک قیمتی اصول ہے۔ لوگوں کو ان کی دلچسپیوں میں مشغول رہنے دیجئے، آپ ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔ یہ اصول دور جدید کے’’ تاتاریوں‘‘ پر مزید اضافہ کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔ موجودہ صنعتی دور کے تاتاری اس سے بھی زیادہ بڑے نشے میں مبتلا ہیں۔ یہ دولت کمانے کا نشہ ہے۔ جدید صنعتی انقلاب نے دولت کمانے کے بے حساب نئے مواقع کھول دئے ہیں۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی ساری توجہ زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے میں لگائے ہوئے ہے۔ برادران وطن میں یہ کیفیت اور بھی زیادہ ہے۔ کیوں کہ وہ دولت کو دیوتا کا درجہ دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کے شر سے بچنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ وہ جس’’نشہ‘‘میں مشغول ہیں انھیں اسی نشہ میں مشغول رہنے دیا جائے۔ دولت پرستی خودان پرستاروں کے لئے بری چیز ہے۔ مگر دوسروں کے لئے وہ ان کے مقابلہ میں ایک قدرتی ڈھال بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader