Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیاب فارمولا بنگلور کے ڈاکٹر احمد سلطان انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان کا مزاج برعکس طور پر یہ تھا کہ محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۹۹ کو تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ جب بھی دہلی آتے تو مجھ سے ملتے اور اپنے '' کامیاب فارمولا ‘‘ کی سبق آموز مثالیں بیان کرتے۔ ایک بار ان کے صاحبزادے رات کے وقت گاڑی لے کر باہر نکلے۔ وہ گیارہ بجے واپس آئے تو وہ گاڑی باہر کھڑی کر کے گھر میں داخل ہوئے اور تیزی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب نے دروازہ کھولا تو دو ہندو جوان باہر کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے غصہ کے لہجے میں بتایا کہ آپ کے صاحبزادے نے ہمارے اسکوٹر کو ٹکر ماری اور پھر بھاگ آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کوئی جواب دینے کے بجائے نرمی سے کہا کہ اندر تشریف لائیے، بیٹھ کر بات ہوگی۔ دونوں اندر آ گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو ایک میز کے کنارے کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ اس وقت سردی کا موسم ہے۔ آئیے ہم لوگ پہلے چائے پئیں پھر بات کریں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا غصہ ختم ہو چکا تھا، دونوں خوش خوش واپس چلے گئے۔ ایک بار ایک ہندو جوان ان کے پاس آیا۔ اس نے رو کر کہا کہ میں ایک بڑے مسئلہ سے دوچار ہوں ۔ آپ میرا مسئلہ حل کیجئے۔ اس نے بتایا کہ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ اس کے بعد میرے باپ نے مجھ کو گھر سے نکال دیا۔ چھ مہینے ہو چکے ہیں اور ابھی تک وہ راضی نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تم انہیں سمجھانے کی کوشش نہ کرو۔ تم خاموشی سے جاؤ اور اپنے باپ کے قدموں پر سر رکھ کر کہو کہ اے باپ، میری غلطی کے لئے مجھے معاف کر دیجئے۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ اپنے گھر گیا تو اس کے باپ نے اس کو ڈانٹا۔ بیٹا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے باپ کے قدموں پر گر پڑا۔ اس کے بعد باپ کا جذبہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page