قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
(A.D.M) کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ حسب قاعدہ تین سال کے اندر ہر ایک کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے مگر اقبال صاحب اپنی کرسی پر بدستور قائم ہیں۔ کیوں ان کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔اے ڈی ایم مسٹر مہیشوری نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے ہم اقبال صاحب کا تبادلہ کر دیتے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ ہم کو اقبال کی جگہ دوسرا اقبال چاہئے۔ وہ یہاں بیک وقت کئی آدمیوں کا کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے حد درجہ پابند ہیں۔ وہ روزانہ تین ٹیلی فون کو سنبھالتے ہیں۔ ہم صرف اشارہ کر دیتے ہیں اور وہ انگریزی یا ہندی میں بہترین draft بنا کر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں اور ہمارا کام صرف دستخط کرنا ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ آپ ایک ایسا آدمی لائیے جو ان کی جگہ لے سکے۔ اس کے لئے ہم آپ کو دو دن کا وقت دیتے ہیں۔ مگر یہ شکایت کرنے والے ملازم خود بھی اقبال صاحب کی اعلیٰ خصوصیات سے واقف تھے، چنانچہ وہ ان کی قائم مقامی کے لئے کسی اور آدمی کا نام پیش کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اور اقبال احمد صاحب اپنی سروس پر اسی عزت کے ساتھ آخر وقت تک باقی رہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز اعلیٰ کردار ہے۔ اعلیٰ کردار کا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ کوئی بھی تعصب یا سازش ایسے آدمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہو سکتی جو اعلیٰ کردار کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔ اصل یہ ہے کہ ہر دفتر یا ہر ادارہ کو کارکنوں کی ضرورت ہے۔ اگر دن امیدوار ہوں اور سب کے سب برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں تو ایسی حالت میں یہ ممکن ہے کہ انتخاب کرنے والے لوگ کسی ایک کے حق میں جانپ داری کا معاملہ کریں اور نو برابر کو چھوڑ کر ایک برابر کو لے لیں۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ان میں سے نو افراد برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایک امتیازی صلاحیت کا مالک ہو تو یقینی طور پر اسی ایک کے حق میں فیصلہ ہو گا جو امتیازی درجہ میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ کیوں کہ یہ ہر آدمی کی اپنی ضرورت ہے کہ اس کے پاس اعلیٰ درجہ کے کارکن موجود ہوں۔ امتیاز پر تعصب اور جانب داری کی کاٹ ہے۔ صاحب امتیاز انسان کے لئے ہر سیٹ اس کی اپنی سیٹ ہے۔ وہ جب چاہے جس سیٹ پر بیٹھ جائے۔ اسی حقیقت کو ایک انگریزی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ ”ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے“۔ :There is always room at the top

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader