Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمتِ اعراض ایک صاحب اپنے خط مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ میں لکھتے ہیں: میں نے ہندی اخبار ’’ہندستان‘‘ کا شمارہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ پڑھا۔ اس کے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ حال میں سورت (گجرات) میں ’’گنیش دسر جن‘‘ کا جلوس نکلا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ پتھر اؤ اور فائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اور کئی درجمی ہو گئے۔ یہ جلوس شہر کے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم اور ہندو یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کار رویہ اپنایا جس کی وجہ سے انھیں اس کا پھل مل گیا۔ اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ ٹکراؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آگئی جو آپ ’’الرسالہ‘‘ یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ (سہیل احمد، حسن البنا منزل، جامعہ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ) ’’سورت‘‘ کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آچکا ہے۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سبق کی طرف الرسالہ میں بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلہ سے گزرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلہ میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس معاملہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی رد عمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم ورسس پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کا رویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسس پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page