Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوا ہو کہ میں حق پر ہوں، میں نے سچائی کو پالیا ہے۔ یہی یقین اعلیٰ انسانیت کا سر چشمہ ہے اور ”میں بھی ٹھیک تم بھی ٹھیک“ عین اسی احساس سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ”میں بھی ٹھیک، تم بھی ٹھیک کا نظریہ انسان کے لئے ذہنی موت کے ہم معنیٰ ہے۔ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا، یا یہ سمجھنا کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے کسی بھی درجہ میں دوسروں کے خلاف نفرت یا حقارت کا سبب نہیں۔ بلکہ بر عکس طور پر وہ محبت انسانی کا ذریعہ ہے۔ اس معاملہ میں نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ کسی آدمی کے لئے سچائی کی دریافت عین اسی وقت خود اپنے لئے فروتنی (modesty) کی دریافت ہوتی ہے۔ سچائی صرف ایک ایسی چیز ہو سکتی ہے جو آدمی سے بلند تر ہو۔ جو چیز آدمی سے بلند نہ ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ ایسی حالت میں جو آدمی حقیقی طور پر سچائی کو دریافت کرے اس نے گویا ایک ایسی عظمت کو دریافت کیا جس کے مقابلہ میں وہ خود غیر عظیم تھا۔ سچائی نہ آدمی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ اس سے کم۔ سچائی لازمی طور پر آدمی سے عظیم تر ہو گی۔ ایسی حالت میں سچائی کی دریافت کا سب سے بڑا معیار (criterion) صرف ایک ہے اور وہ فروتنی ہے۔ جو آدمی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سچائی کو دریافت کیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے اندر گھمنڈ یا برتری کا احساس ہو تو یقینی طور پر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے جس چیز کو پایا ہے وہ خود اس کی اپنی ذات ہے نہ کہ برتر سچائی۔ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کرنے والا ایک حیوان ہے: Man is a truth-seeking animal اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایک ناکمل مخلوق ہے۔ انسان کی فطرت ہر لمحہ اس کو کسی چیز کی دریافت کرنے پر اکساتی رہتی ہے جو اس سے برتر ہو، جس کے ذریعہ وہ اپنی ذات کی تکمیل کر سکے۔ یہ کہنا کہ انسان متلاشی حق ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ انسان اپنے سے برتر ایک ایسی چیز تلاش کر رہا ہے جس کے مقابلہ میں وہ اپنی حیثیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page