سوچنے کا طریقہ
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
سوچنے کا طریقہ ماہنامہ الفرقان (لکھنؤ) کے شمارہ اپریل ۲۰۰۲ میں ایک رپورٹ چھپی ہے، جس کا عنوان یہ ہے: ’’ادارہ الفرقان کی زندگی کا ایک یادگار دن‘‘۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۲۷ فروری ۲۰۰۴ کو ندوه (لکھنؤ) کے شبلی ہال میں ایک جلسہ ہوا، جس میں علماء اور طلباء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ جلسہ مولانا محمد منظور نعمانی کے درسِ قرآن کی اشاعت کے سلسلہ میں تشکر اور تعارف کے موضوع پر ہوا تھا۔ اس جلسہ کے صدر مولاناسید رابع حسنی ندوی تھے۔ اس روداد کے مرتب مولانامحمد خلیل الرحمن سجّاد نعمانی ہیں۔ اس جلسہ کے موقع پر شبلی ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اس میں مختلف علماء نے تقریریں کیں۔ ان مقررین میں سے ایک ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی تھے۔ وہ دینی تعلیمی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک ان کا ذاتی مشاہدہ تھا۔ ان کی تقریر کے اس حصہ کوالفرقان سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’’ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی نے، مولانا محمد منظور نعمانی کے طرز کلام کی خصوصیات اور ان کی تقریروں کا جو غیر معمولی اثر سننے والوں پر پڑا کرتا تھا، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے ۱۹۵۳ میں بستی کے ایک اجلاس میں جس میں بڑی تعداد میں غیر مسلم خواص بھی مدعو کیے گئے تھے، توحید کے موضوع پر ان کی ایک تقریر کا ذکر، بطور مثال کیا اور کہا کہ اس تقریر کے سننے والوں میں انٹر کالج میں ہندی کے ایک لکچرر جناب گنیش پرشاد سرایواستو صاحب بھی تھے۔ رات میں تقریر سن کر وہ چلے گئے اور رات بھر روتے رہے۔ دوسرے دن صبح کو ایک مخصوص نشست رکھی گئی تھی اس میں بھی وہ آئے۔ مولانا نعمانی کی ان پر نظر پڑی۔ مولانا نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ دونوں میں تعارف ہوا اور پھر ہم لوگوں نے دیکھا کہ گنیش پرشاد سرایواستو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے، وہ زار و قطار رونے لگے۔ ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سُنا کہ مولانا! جس طرح کی تقریر آپ نے توحید کے موضوع پر کی ہے۔ اگر اس کا سلسلہ ہندوستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader