Urdu book · رہنمائے حیات

سوچ کا فرق

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

بیس سال بعد کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا ۔۔۔ چھ لفظ کے اس جملہ کو آج ایک شخص چھ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنی زبان سے ادا کر سکتا ہے ۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کولمبس کو ۲۰ پشت سال صرف کرنے پڑے ۔ کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) ۱۴۵۱ء میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ ۱۵۰۶ء میں اسپین میں اس کی وفات ہوئی۔ امریکہ کی دریافت حقیقتہ یورپ کے لیے مشرق کا سمندری راستہ دریافت کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی حاصل (by-product) تھی۔ کولمبس نے ۱۴۸۴ء میں پرتگال کے شاہ جان دوم (John II) سے درخواست کی کہ وہ اس بحری سفر کے لیے اس کی مدد کرے۔ مگر شاہ پرتگال نے اس کو بے فائدہ سمجھ کر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کولمبس نے کیسٹلی (Castile) کی ملکہ ازبیلا (Isabella) سے مدد کی درخواست کی یہاں بھی اس کو مثبت جواب نہیں ملا۔ تاہم کولمبس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آٹھ سال کے بعد ملکہ نے اس کو کشتیاں اور ضروری سامان مہیا کر دیا۔ کولمبس نے تین کشتیوں کے ساتھ اپنا پہلا سفر ۳ اگست ۱۴۹۲ء کو شروع کیا۔ تاہم اس سفر میں وہ امریکہ کے ساحل تک پہوچنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ہر قسم کی مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود کولمبس اپنی کوشش میں لگا رہا۔ آخر کار چوتھے سفر کے بعد ۱۵۰۴ء میں وہ " نئی دنیا " کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا (10/691) کولمبس سے پہلے دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ کولمبس کی دریافت نے نئی اور پرانی، دونوں دنیاؤں کو ملاکر ایک کر دیا۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم دریافت تھی۔ مگر یہ دریافت صرف اس وقت ممکن ہوسکی جب کہ کولمبس اور اس کے ساتھی بے حوصلہ ہوئے بغیر ۲۰ سال تک اس جان جوکھم منصوبہ کی تکمیل میں لگے رہے ۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے ۔ اس دنیا میں ہر کامیابی ۲۰ سالہ محنت مانگتی ہے۔ اس کے بغیر یہاں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page