Urdu book · رہنمائے حیات

سوچ کا فرق

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

شیر کا طریقہ ٹائمز آف انڈیا ( ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ ) میں شیر کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شیر جنگل کی گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتے ۔ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی کانٹا ان کے نرم پاؤں میں نہ چبھ جائے ۔ چنانچہ وہ ہمیشہ کھلے راستوں پر یا سڑکوں پر چلتے ہیں : شیر اور دوسرے تمام جانور فطرت کے مدرسہ کے تربیت یافتہ ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس طریقہ پر چلتے ہیں جو ان کے خالق نے براہ راست طور پر انھیں بتایا ہے ۔ اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہو گا کہ شیر کا مذکورہ طریقہ فطرت کا پسندیدہ طریقہ ہے۔ شیر کے لئے یہ احتیاطی طریقہ اس کی طینت میں رکھ دیا گیا ہے ۔ اور انسان کے لیے شریعت کی زبان میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی کہ خذوا حذرکم ( اپنے بچاؤ کا انتظام رکھو ) اللہ تعالیٰ نے جس خاص مصلحت کے تحت موجودہ دنیا کو بنایا ہے ، اس کی بنا پر یہاں صاف ستھرے راستے بھی ہیں ، اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی ۔ یہ کانٹے دار جھاڑیاں لازماً اس دنیا میں رہیں گی ، ان کو ختم کرنا ممکن نہیں ۔ اب یہاں جو کچھ کرنا ہے ، وہ وہی ہے جو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق جنگل کا شیر کرتا ہے ، یعنی کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنے آپ کو بچایا جائے اور صاف اور کھلا ہوا راستہ تلاش کر کے اس پر اپنا سفر جاری کیا جائے ۔ شیر جنگل کی گھاس سے اعراض کرتے ہوئے چلتا ہے ، ہم کو انسانوں کے ففتہ سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے ۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل سے دوسروں کو غصہ نہ دلائیں۔ اور اگر دوسرے لوگ ہمارے اوپر غضب ناک ہو جائیں تو صبر کے ذریعہ ان کے غضب کو ٹھنڈا کریں۔ اور حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو ان کے غضب کا شکار ہونے سے بچائیں۔ جنگل کا بادشاہ " جو کچھ کرتا ہے وہ بزدلی نہیں ہے بلکہ عین بہادری ہے ۔ اسی طرح ایک انسان اپنے سماج میں یہی طریقہ اختیار کرے تو وہ بزدلی نہیں ہو گا بلکہ عین بہادری ہو گا ۔ اعراض کا طریقہ شیر کا طریقہ ہے نہ کہ گیدڑ کا طریقہ ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page