محرومی کے بعد بھی
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں ہر نا کامی کے بعد ایک نئی کامیابی کا امکان آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی اس امکان کو استعمال کر کے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنالے۔ الرسالہ (دسمبر ۱۹۸۸) میں کناڈا کے کھلاڑی بن جانسن (Ben Johnson) کا قصہ چھپ چکا ہے۔ دوڑ کے عالمی مقابلہ میں اس نے اول درجہ کی کامیابی حاصل کی۔ مگر اگلے ہی دن اس کا جیتا ہوا گولڈ میڈل اس سے چھین لیا گیا۔ مزید اس کے بارہ میں یہ سخت فیصلہ کیا گیا کہ وہ اگلے دو سال تک کھیل کے مقابلوں میں حصہ نہ لے سکے گا۔ بن جانسن کے لیے یہ اس کی زندگی کا شدید ترین حادثہ تھا۔ تاہم اس نے ظالم جوں کے خلاف احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا۔ اس نے از سر نو اپنی تیاری کا منصوبہ بنایا۔ اٹلی کے ٹیلی وژن نیٹ ورک نے نومبر ۱۹۸۸ میں بن جانسن کا ایک تصویر انٹرویو اس کی رہائش گاہ (ٹورانٹو) پر لیا جس کی تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا یا ۲۹ نومبر ۱۹۸۸) کے مطابق، ایک سو میٹر دوڑ کے عالمی چیمپین بن جانسن نے ٹیلی وژن کیمرہ کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جان بوجھ کر کھیل کے اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ تاہم وہ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ بارسلونا (اسپین) میں ۱۹۹۲ میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں واپس آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کا عالمی ریکارڈ ٹریک پر ۱۳ سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ بظاہر وہ بہت افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ سیول اولمپک کے بعد پیش آنے والے مشکل لمحات کا ذکر کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑے۔ انٹرویو لینے والے مسٹر گیانی منولی (Gianni Minoli) نے کہا کہ شوٹنگ کا کام پانچ منٹ تک روک دینا پڑا۔ کیوں کہ بن جانسن اپنی سیکیوں پر قابو نہیں پاسکتے تھے۔ بن جانسن نے بتایا کہ ٹریک پر واپس آنے کے لیے وہ ہفتہ میں چھ دن چار گھنٹہ روزانہ ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا کام صرف دوڑنا ہے۔ بیٹھے رہنے کی بات میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ مقابلہ میں حصہ لوں۔ انھوں نے میرا سونے کا تمغہ مجھ سے لیا ہے نہ کہ میری رفتار۔ They have taken away my gold medal, not my speed. چھیننے والا ہمیشہ آپ کی کوئی چیز چھینتا ہے نہ کہ خود آپ کو۔ آپ کا وجود اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ پھر بھی آپ کو حاصل رہتا ہے۔ اس حاصل شدہ متاع کو استعمال کیجیے، اور پھر ہر محرومی کے بعد آپ اپنی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader