Urdu book · رہنمائے حیات

دشمن میں دوست

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

عام مزاج یہ ہے کہ لوگ اپنوں کو اپنا اور غیروں کو غیر سمجھتے ہیں۔ مگر کھلے دل والے انسان کے لیے ہر ایک اس کا اپنا ہے، کوئی اس کا غیر نہیں۔ سوامی رام تیرتھ (۱۹۰۶ء ۔ ۱۸۷۳ء) نہایت قابل آدمی تھے۔ ان کا ایک بہت با معنی قول ہے: زندگی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے " کھینچو " مگر اکثر ہم اسے " دھکا " دینا شروع کر دیتے ہیں۔ سوامی رام تیرتھ روانی کے ساتھ انگریزی بولتے تھے۔ وہ دھرَم کے پرچار کے لیے ۱۹۰۳ء میں امریکہ گئے۔ ان کا جہاز سان فرانسسکو کے سمندری ساحل پہ لنگر انداز ہوا۔ وہ اتریے تو ایک امریکی از راہِ تعارف ان کے قریب آیا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی : " آپ کا سامان کہاں ہے " امریکی نے پوچھا۔ " میرا سامان بس یہی ہے " سوامی رام تیرتھ نے جواب دیا۔ " اپنا روپیہ پیسہ آپ کہاں رکھتے ہیں " " میرے پاس روپیہ پیسہ ہے ہی نہیں " " پھر آپ کا کام کیسے چلتا ہے " " میں سب سے پیار کرتا ہوں، بس اسی سے میرا سب کام چل جاتا ہے " " تو امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ضرور ہو گا " " ہاں ایک دوست ہے اور وہ دوست یہ ہے " سوامی رام تیرتھ نے یہ کہا اور اپنے دونوں بازو امریکی شخص کے گلے میں ڈال دیے۔ امریکی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد وہ امریکی ان کا اتنا گہرا دوست بن گیا کہ وہ انھیں اپنے گھر لے گیا اور سوامی رام تیرتھ جب تک امریکہ میں رہے وہ برابر ان کے ساتھ رہا اور ان کی خدمت کرتا رہا۔ حتی کہ وہ ان کا شاگرد بن گیا۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ محبت کے ذریعہ آپ اپنے مخالف کو جھکا سکتے ہیں اور ایک اجنبی شخص کو اپنا بنا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی محبت سچی محبت ہو، وہ دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page