دماغی اضافہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
دماغی اضافہ سرسی وی رمن (۱۹۷۰ء-۱۸۸۸) ہندوستان کے مشہور سائنس داں تھے۔ وہ تر چر اپلی میں پیدا ہوئے اور بنگور میں ان کی وفات ہوئی۔ آخر وقت میں وہ رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی عہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۳۰ء میں ان کو فزکس کا نوبیل پرائز دیا گیا۔ رمن کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون سنڈے ریویو (۱۷ مارچ ۱۹۹۱) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے : رمن کا یقین تھا کہ سائنس دماغ سے آتی ہے نہ کہ سازوسامان سے۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لیے صرف ایک کلو واٹ کا لیمپ ہے، جب کہ بیرونی ملکوں میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس ۱۰ کلو واٹ کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے اس طالب علم کو جواب دیا کہ تردد نہ کرو، تم اپنے مسئلہ کی تحقیق میں ۱۰ کلو واٹ کا دماغ رکھ لو۔ یہ بات نہایت درست ہے۔ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے۔ سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جاسکتا ہے، مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ دو سو سال اور تین سو سال پہلے مغرب میں جو سائنس داں پیدا ہوئے، ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان نہیں تھا جو آج کسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ طالب علم کے پاس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعہ کام کیا، کیوں کہ اس وقت بجلی کا استعمال ہی شروع نہ ہوا تھا۔ وغیرہ۔ مگر یہی سائنس داں تھے جنھوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں قائم کیں۔ اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جب بھی کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کے پاس سہولیات وسائل یا سازو سامان کی کمی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھا لے۔ اس کی دماغی محنت اس کے لیے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader