Urdu book · رہنمائے حیات

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کو معاملہ کا ابتدائی سرامل جائے۔ ابتدائی سرا جس کے ہاتھ میں آجائے وہ آخر کار انتہائی سرے تک پہنچ کر رھے گا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک ۱۷۹۹ ء میں شروع ہوئی جب کہ سلطان ٹیپو انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے مارے گیے۔ اس کے بعد انگریزوں سے لڑنا، انگریز شخصیتوں پر بم مارنا، ان پر حملہ کرنے کے لیے بیرونی حکومتوں کو ابھارنا، جیسے ہنگامے سو سال سے زیادہ مدت تک جاری رہے۔ اس قسم کی تدبیریں اپنی نوعیت میں پرشورھتیں۔ چنانچہ ان کا نام آتے ہی انگریز فوراً چوکنا ہو جاتا تھا اور ان کو پوری طاقت سے کچل دیتا تھا۔ اس کے بعد گاندھی میدان سیاست میں آئے تو اچانک صورت حال بدل گئی۔ پہلے لوگ ہنسا کے ذریعہ آزادی کا مطالبہ کرتے تھے ، گاندھی نے اس کے برعکس آہنسا کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کو ایسی بنیاد پر چلانے کا اعلان کیا جو انگریزوں کو ناقابل لحاظ دکھائی دے۔ گاندھی کے اسی طریقہ کا ایک جزو وہ ہے جس کو ڈانڈی مارچ کہا جاتا ہے۔ گجرات کے ساحل پر قدیم زمانہ سے نمک بنایا جاتا تھا۔ انگریزی حکومت نے گجرات میں نمک بنانے کی صنعت کو سرکاری قبضہ میں لے لیا۔ گاندھی اس قانون کی پر امن خلاف ورزی کے لیے سا برمتی سے پیدل روانہ ہوئے اور ۲۴ دن میں ۲۰۰ میل کا سفر طے کرکے ڈانڈی کے ساحل پر پہنچے اور نمک کا ایک ٹکڑا اپنے ہاتھ میں لے کر سرکاری قانون کی خلاف ورزی کی۔ گاندھی نے جب اپنے منصوبہ کا اعلان کیا تو انگریز عہدیداروں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر ایک انگریز افسر نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانوی شہنشاہیت کو زیر کر سکیں : Let him make his salt. Mr. Gandhi will have to find a great deal more than a pinch of salt to bring down the British Empire. موجودہ دنیا میں کامیاب اقدام وہ ہے جو دیکھنے میں ناقابل لحاظ دکھائی دے، مگر حقیقت وہ ناقابل تسخیر ہو۔ جو حریف کو بظاہر ”چٹکی بھر نمک“ نظر آئے ، مگر انجام کو پہنچے تو وہ ”پہاڑ بھر نمک بن جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page