سوچ کا فرق
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا موقع ریڈرز ڈائجسٹ فروری ۱۹۸۱ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس کا عنوان ہے : Dare to Change Your Life اپنی زندگی کو بدلنے کی جرأت کرو) اس مضمون میں کئی ایسے واقعات دیئے گئے ہیں جن میں ایک شخص کو ابتدأر ناکامی پیش آئی۔ وہ نقصانات اور مشکلات سے دوچار ہوا۔ مگر اس نے حوصلہ نہیں کھویا۔ ایک موقع کو کھونے کے باوجود اس کی نظر دوسرے موقع پر لگی رہی۔ یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ ایک بار ناکام ہو کر اس نے دوسری بار کامیابی حاصل کرلی۔ مضمون کے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ زندگی دوسرے مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ دوسرے موقع کو استعمال کرنے کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ صرف یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اس کو پہچانے اور حوصلہ مندانہ طور پر اس پر عمل کرے : Life is full of second chances. All we need for a second chance is the ability to recognize it and the courage to act. زندگی سیکنڈ چانس (دوسرے موقع کو استعمال کرنے کا نام ہے ـــــ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو فرد کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی قوم کے لیے۔ پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام کو مکہ میں موقع نہ مل سکا۔ اس کے بعد اسلام نے مدینہ کے موقع کو استعمال کرکے اپنی تاریخ بنائی۔ مغربی قومیں صلیبی جنگوں میں اپنے لیے موقع نہ پاسکیں تو انھوں نے علمی مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ کامیابی کا مقام حاصل کیا، وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی پہلے موقع کو کھو دیتا ہے۔ کبھی اپنے ناقص تجربہ کی وجہ سے اور کبھی دوسروں کی سرکشی کی وجہ سے۔ مگر پہلے موقع کو کھونے کا مطلب ایک موقع کو کھونا ہے نہ کہ سارے مواقع کو کھونا۔ پہلا موقع کھونے کے بعد اگر آدمی مایوس نہ ہو تو جلد ہی وہ دوسرا موقع پالے گا جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader