رمضان اور عید الفطر
Urdu book, PDF p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
رمضان اور عید الفطر حضرت ابو ہریرہ کی ایک طویل روایت مسند احمد میں آئی ہے۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: يُغفر لهم في آخر ليلة من رمضان - قيل: يا رسول الله، أهی ليلة القدر - قال: لا، ولكن العامل إنّما يُوفى أجره إذا قضى عمله (رقم الحديث: 7904) یعنی رمضان کی آخری رات میں روزے دار بندوں اور بندیوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس رات سے مراد شب قدر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل کرتا ہے، تو عمل کے پورا ہونے کے بعد اُس کو اُس کا پورا اجر دے دیا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی کے وہ افراد جو روزے کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں، مہینے کی آخری رات میں ان کے عمل کا پورا اجر ان کے ریکارڈ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے کی اس آخری رات کو دوسری حدیث میں ’ليلة الجائزة (البيهقی) کہا گیا ہے، یعنی انعام کی رات۔ ہر نیک عمل پر اللہ اپنے بندوں کو انعام دیتا ہے۔ رمضان کی عبادت کی اہمیت کی بنا پر اس حدیث میں اس کے انعام کا ذکر خصوصی انداز میں کیا گیا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا ہے، تو عید سے پہلے کی رات کو لوگ غفلت میں یا تماشے میں گزارتے ہیں۔ وہ اس میں شاپنگ کی دھوم مچاتے ہیں۔ یہ حدیث اس قسم کی غفلت کے لیے ایک انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انعام کی اس رات کا بہتر استعمال یہ ہے کہ اُس رات کو زیادہ سے زیادہ دعا اور عبادت میں گزارا جائے، اور پورے مہینے کا محاسبہ کیا جائے، اور نئے سال کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس رات کو مسرفانہ شاپنگ جیسی چیزوں میں گزارنا، اس بابرکت موقع کا ضیاع بھی ہے اور اُس کی ناقدری بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ رمضان کے مہینے کو اُس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی اس کا تحمّل نہیں کر سکتے کہ رمضان کی آخری رات کو وہ غفلت اور تفریح میں گزار دیں۔ ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا اور عبادت کی رات ہوگی، نہ کہ غفلت اور تفریح کی رات۔ رمضان کے بارے میں حضرت انس بن مالک سے ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ اُس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: یعنی جب اُن کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس عامل کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کہتا حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے رمضان کے مہینے کو اُس کی مطلوب بندوں اور میری بندیوں اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی نے میرے اُس فرض کو ادا کر اس کا تحمّل نہیں کر سکتے کہ رمضان کی آخری دیا جو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے رات کو وہ غفلت اور تفریح میں گزار دیں۔ ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا ہوئے ۔ میری عزت اور میرے اور عبادت کی رات ہوگی، نہ کہ جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علّوِ غفلت اور تفریح کی رات۔ شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، رقم الحديث: 3717)۔ رمضان کے خاتمے کے بعد عید الفطر کا دن ایک عظیم خوش خبری بن کر آتا ہے، ابدی انعام کی خوش خبری۔ یہ ابدی انعام اللہ کے اُن بندوں اور بندیوں کے لیے ہے جو رمضان کے مہینے میں مطلوب روزے کے ذریعے اپنے لیے اُس کا استحقاق ثابت کریں۔
