Urdu book · راز حیات

ایک وراثت یہ بھی ہے

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک وراثت یہ بھی ہے کریم بخش سیدھے سادھے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کر لینے۔ 65 سال کی عمر میں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے تو ان کے لیے انھوں نے کوئی قابل ذکر جائیداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تا کہ اپنے لیے کمائی کی کوئی صورت کر سکیں۔ شہر میں انھوں نے مختصر سرمایہ کے ساتھ ایک کاروبار شروع کر دیا۔ رحیم بخش کے والد نے ان کے لیے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی، مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ ان کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی جھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کے لیے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔ رحیم بخش کا کاروبار اگرچہ معمولی تھا مگر ان کی شرافت، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں ۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ”میاں جی، جتنا چاہے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروانہ کرو۔ پیسے بعد میں آجائیں گے“۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آ گئی۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرتے رہتے۔ جب ان کے دل میں شیطان کوئی بد معاملگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبا دیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page