Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

فراہم کرنے کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ ملت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہو اور وہ ایک طاقتور قوم کی حیثیت سے زمین پر اپنی جگہ حاصل کرے۔ مگر جب اس قسم کا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے تو کہنے والے فوراً کہہ دیتے ہیں: یہ تو بڑا لمبا منصوبہ ہے۔ اس کو پورا ہونے میں سو سال لگ جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو ہمارا جواب صرف ایک ہے: جب ایسا ہے تو ہمیں ایک لمحہ کے لیے بھی اپنا وقت کھونا نہیں چاہیے ۔ ہم کو چاہیے کہ ہم آج ہی پہلی فرصت میں اپنا "درخت" نصب کر دیں۔ ایک طاقتور درخت ہمیشہ "سو سال" ہی میں تیار ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص طاقتور درخت کا مالک بننا چاہتا ہو اس کے لیے سو سالہ باغبانی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے کے بجائے سڑکوں پر نکل کر "درخت ستتیہ گرہ" شروع کر دے۔ یا کسی میدان میں جمع ہو کر "باغ ملت زندہ باد" کے نعرے لگانے لگے تو یہ ایک احمقانہ حرکت ہوگی جس سے نہ کوئی درخت اُگے گا اور نہ وہ باغ والا بنے گا۔ اس کا واحد انجام صرف یہ ہے کہ وہ اس وقت کو مزید ضائع کر دے جو درخت اگانے کے لیے اس کو قدرت کی طرف سے حاصل تھا۔ آپ کے پاس مکان نہ ہو اور آپ سڑک پر کھڑے ہو کر پھلجھڑی چھوڑنے لگیں تو اس سے آپ شہر میں ایک مکان کے مالک نہیں بن جائیں گے۔ اسی طرح ملت کا نام لے کر کچھ لوگ سیاسی شعبدہ بازی کرنے لگیں تو اس قسم کے شعبدوں سے ایسا نہیں ہو سکتا کہ زمین پر ملت کا قلعہ کھڑا ہو جائے۔ اشعار کی دنیا میں صرف تک بندیوں کے ذریعہ بڑے بڑے انقلاب لائے جاسکتے ہیں، ایک خطیب اپنے پرجوش الفاظ کے ذریعہ آناً فاناً ایک پنڈال کو شان دار کامیابیوں کے آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ مگر ایک حقیقی واقعہ کو ظہور میں لانا ایسا صبر آزما کام ہے جو طویل منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ سیڑھی نہ کہ لفت "موجودہ منزل تک میں سیڑھی سے پہنچا ہوں، نہ کہ لفٹ سے۔" ایک ٹیلر ماسٹر نے کہا، "اچھا کوٹ تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کوٹ تیار کرنے کا پورا عمل اتنا پیچیدہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page