Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ کامل منصوبے کے تحت دوسری تعمیر کرتا ہے۔ مگر ہمارا آشیانہ گرتا رہتا ہے اور کبھی ہم کو احساس نہیں ہوتا کہ اپنی کمی کو معلوم کرکے زیادہ مستحکم تعمیر کا منصوبہ بنائیں۔ فرد کی سطح پر ایک شخص بائیسکل پر سفر کر رہا تھا۔ اچانک اس کا بریک جام ہو گیا۔ وہ اتر کر سائیکل ساز کے پاس گیا۔ مسافر کا خیال تھا کہ جس مقام پر اس کا بریک جام ہوا ہے، سائیکل ساز اسی مقام پر ہاتھ لگا کر اس کو درست کرے گا۔ مگر سائیکل ساز نے ہتھوڑی لی اور بالکل دوسرے مقام پر ٹھونکنا شروع کر دیا۔ مسافر ابھی اپنی حیرت کا اظہار بھی نہیں کر پایا تھا کہ مستری نے کہا، ”بس ٹھیک ہے، لے جایئے۔“ اگلے لمحے سائیکل اپنے مسافر کو لیے ہوئے دوبارہ سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ظاہری اسباب کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ خرابی یہاں ہے۔ وہ اسی مقام پر ٹھونک پیٹ شروع کر دیتا ہے۔ مگر خرابی دور نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خرابی کی اصل جڑ کہیں اور ہوتی ہے اور جب تک اصل جڑ کی اصلاح نہ کی جائے، خرابی کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ مثلاً قوم کے اندر اتحاد نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ لوگ آپس کے اختلاف میں غیروں سے مل جاتے ہیں۔ ان کی کوئی اجتماعی آواز نہیں ہے، وغیرہ۔ ان مظاہر کو دیکھ کر ایک شخص کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ اٹھتا ہے اور وہ فوراً اجتماع اور کنونشن کی اصطلاحات میں سوچنے لگتا ہے۔ اس کو کام یہ نظر آتا ہے کہ قوم کے افراد کو جمع کرکے پرجوش تقریریں کی جائیں۔ رزولیوشن پاس کیے جائیں۔ وغیرہ۔ مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ یہ گویا علامتوں پر محنت کرنا ہے۔ حالانکہ اصلی حل یہی ہے کہ سبب پر محنت کی جائے۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسئلہ بظاہر کہیں اور پیدا ہوتا ہے اور اس کے حل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page