راز حیات
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
شکایت کرتے ہیں کہ ان کی ضد اور تعصب کی وجہ سے ایسا ہوا۔ حالاں کہ اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے کچھ نہ کچھ کرنے کو کرنا سمجھ لیا۔ حالاں کہ کرنا صرف وہ ہے جو درست طریقہ پر اور درست سمت میں کیا جائے، نہ کہ درست اور نا درست کا لحاظ کیے بغیر بس یوں ہی ہاتھ پاؤں چلانا شروع کر دیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے لیے دوسروں کو الزام دیتا ہے۔ حالاں کہ دوسروں کو اس کے خلاف جو موقع ملا وہ اسی لیے ملا کہ اس نے غلط رخ سے اپنا سفر جاری کیا تھا، اگر اس نے صحیح رخ سے اپنا سفر شروع کیا ہوتا تو اس کی نوبت ہی نہ آتی کہ کوئی اس کے راستہ میں حائل ہو جائے۔ وہ اس کے کامیابی کے سفر کو ناکامی اور بربادی کا سفر بنا دے۔ بڑا کام کرنے والے دنیا میں ہمیشہ دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ انسان جس کا حال یہ ہو کہ وہ جو کچھ کرے اس کی قیمت مع اضافہ کے وصول کرنا چاہے۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ وہ جو کچھ کرے اسے بھول جائے ۔ اسے اپنے کیے کا کوئی معاوضہ نہ ملے تب بھی وہ کوئی شکایت اپنے دل میں نہ لائے۔ اس کی تسکین کا سامان یہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مقصد میں لگائے ہوئے ہے، نہ یہ کہ اس کو اس کے عمل کا فوری معاوضہ مل رہا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ بھی انسان ہیں اور دوسری قسم کے لوگ بھی انسان۔ مگر دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ظاہری صورت کے سوا دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ صرف بازار چلاتے ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کے لوگ تاریخ بناتے ہیں۔ یہی دوسری قسم کے لوگ انسانیت کا اصل سرمایہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ مل کر کام کریں۔ جب اس طرح لوگ ملتے ہیں تو کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کوئی کریڈٹ پا تا ہے اور کوئی بے کریڈٹ رہ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader