Urdu book · راز حیات

استقلال

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں ان کے حل کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ مسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور حل ہمیشہ لامحدود۔ اگر آپ حل کی اسکیم کو نسل درنسل چلاسکیں تو آپ ہر پہاڑ کو کاٹ سکتے ہیں اور ہر دریا کو عبور کر سکتے ہیں۔ جو شخص لگا تار عمل کرنے کے لیے تیار ہو اس کے لیے کوئی پہاڑ نہیں اور کوئی در یاور یا نہیں۔ یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا آکسفورڈ یونیورسٹی 1163ء میں قائم ہوئی۔ اس کے ہرے ہرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک امریکن کروڑ پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ ”ایسالان کتنے ڈالر میں تیار ہو جائے گا“ انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔ ”مفت میں“ مالی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔ ”وہ کیسے“ ”اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کر کے اس پر گھاس جماد بیجئے ۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کرا اوپر سے رولر پھیر دیجئے ۔ اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے۔ جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے، نہ کہ قیمت کا۔“ شام کے وقت سورج آپ کے اوپر غروب ہو جائے اور آپ دوبارہ صبح کا منظر دیکھنا چاہیں تو آپ کو پوری رات تک انتظار کرنا ہوگا۔ رات کا وقفہ گزارے بغیر آپ دوبارہ صبح کے ماحول میں آنکھ نہیں کھول سکتے۔ آپ کے پاس ایک بیج ہے اور آپ اس کو درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ 25 سال تک انتظار کریں۔ اس سے پہلے آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page