ایک طریقہ یہ بھی ہے
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹوٹنے کے بعد مادہ کی آخری اکائی ایٹم ہے جس طرح سماج کی آخری اکائی فرد ہوتا ہے۔ اگر ہم ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم اس کو فنا نہیں کرتے۔ بلکہ اس کو ایک نئی اور زیادہ بڑی قوت میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کا نام جوہری توانائی (Atomic energy) ہے۔ مادہ منجمد توانائی ہے اور توانائی منتشر مادہ۔ مادہ اپنی ابتدائی شکل میں جتنی قوت رکھتا ہے، اس کے مقابلہ میں اس وقت اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے جب کہ اس کے ایٹموں کو توڑ کر جوہری توانائی میں تبدیل کر دیا گیا ہو۔ معمولی مادی قوت اور جوہری قوت میں کیا فرق ہے ، اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ دوٹن کوئلہ ایک ریل گاڑی کو ستر میل تک لے جاتا ہے اور نو گیلن کروسین ایک موٹر کو پانچ سو میل تک دوڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں بارہ پونڈ یورینیم جب جوہری توانائی میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ایک تیز رفتار راکٹ کو دولاکھ چالیس ہزار میل کا سفر طے کرا سکے۔ ایسا ہی معاملہ اس سماجی اکائی کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں۔ انسان جب ”ٹوٹتا ہے “ تو وہ بے پناہ حد تک وسیع ہو جاتا ہے۔ جس طرح مادہ ٹوٹنے سے فنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی قوت بڑھا لیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی ہستی جب ”شکست“ سے دوچار ہوتی ہے تو وہ ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی شدید تر طاقت حاصل کر لیتی ہے۔ انسان پر شکست کا حادثہ گزرنا اس کے تمام اندرونی تاروں کو چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے بعد اس کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی طاقتیں اپنی نا کامی کی تلافی کے لیے حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اس کے عزم وارادہ کو مہمیز لگتی ہے۔ اس کے اندر ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کا وہ بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے جو سیل رواں کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، حتی کہ پتھریلی چٹانوں کے بس میں بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader