راز حیات
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر شیلر کو کیسے یہ موقع ملا کہ وہ کھلے جنگل میں زندہ شیر کے بالکل پاس جا کر شیر کا مطالعہ کریں ۔ جواب یہ ہے عقل کے ذریعے ۔ مسٹر شیلر نے ایسے کارتوس تیار کیے جن میں گولی کے بجائے بے ہوش کرنے والی دوا بھری ہوتی تھی ۔ اس بے ہوشی کے کارتوس کو مخصوص بندوق میں رکھ کر وہ داغتے تو وہ شیر کے پاس پہنچ کر منتوں میں اس کو غافل اور بے ہوش کر دیتی تھی ۔ انھوں نے اس طریقہ کے ذریعہ تقریباً ایک سو شیروں کو بے ہوشی کی دواؤں کا نشانہ بنا کر بے حس کر دیا اور جب وہ بے حس ہو کر زمین پر گر پڑتے تو ان کے قریب جا کر ان کی ہر چیز دیکھی اور غور کے ساتھ ان کا مکمل مطالعہ کیا۔ انسان جس طرح جنگل کے خونخوار درندوں کو قبضہ میں کر لیتا ہے، اسی طرح وہ انسانی بستی کے مردم نما بھیڑیوں پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسانی بھیڑیوں پر بھی خدا کی دی ہوئی عقل کو اسی طرح استعمال کیا جائے۔ جس طرح اسے جنگل کے بھیڑیوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک شخص آپ سے کسی اعتبار سے بڑا ہے اور آپ سے اپنی بڑائی منوانا چاہتا ہے تو آپ اس کی بڑائی مان کر اسے "بے ہوش" کر دیجئے اور پھر اپنی خاموش تعمیر میں لگ جایئے ۔ اگر آپ ایسا کریں تو بالآخر وہ وقت آجائے گا کہ خود اس کو وہ واقعہ ماننا پڑے جس کا مطالبہ اس سے پہلے وہ آپ سے کر رہا تھا۔ خود جاننا پڑتا ہے پچاس سال پہلے دیا سلائی اور لائٹر کا رواج نہیں تھا۔ دیہات کے لوگ ایک دوسرے کے گھروں سے آگ مانگ کر اپنا چولھا گرم کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک خاتون اپنے پڑوسی کے گھر گئیں اور پوچھا کہ کیا آگ ہے۔ پڑوسی خاتون بولیں " ہاں بہن ، طاق پر رکھی ہے " یہ خاتون بڑھاپے کی وجہ سے بہت کم سنتی تھیں۔ اس بنا پر ان کے لیے اس غیر متعلق جواب کا عذر تھا۔ مگر بہت سے لوگ جن کے آنکھ اور کان پوری طرح درست ہوتے ہیں وہ بھی اکثر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader