Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیے بولے۔ مگر آدمی کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی زبان و قلم صرف الفاظ کی لکیریں بناتے ہیں ، نہ کہ زندگی کی حقیقتیں ۔ الفاظ کا غذ پر نشان بن کر رہ جاتے ہیں ۔ آواز ہوا میں غیر مرئی لہروں کی صورت میں گم ہو جاتی ہے ۔ اور بالآخر آدمی کے پاس جو چیز باقی رہتی ہے وہ صرف ایک جھوٹا انتظار ہے ۔ اور حقائق کی اس دنیا میں کسی کا جھوٹا انتظار کبھی پورا نہیں ہوتا ۔ سڑک کا سبق شہر کی مصروف سڑکوں پر ہر وقت حادثہ کا خطرہ رہتا ہے ۔ چنانچہ ٹریفک کی رہنمائی کے لیے سڑکوں پر مختلف ہدایات لکھ دی جاتی ہیں ۔ ان ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ پٹری پر چلنا محفوظ چلنا ہے: Lane driving is sane driving یعنی آدمی اگر پٹری کا پابند رہتے ہوئے اپنی سواری چلائے تو وہ اپنے آپ کو حادثات سے بچا سکتا ہے ۔ وہ اس خطرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ دوسری گاڑیوں سے اس کا ٹکراؤ ہو اور وہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے بجائے قبرستان کی طرف بڑھنے پر مجبور ہو جائے ۔ لندن کے ایک ڈرائیور نے ایک بار ایک مضمون شائع کیا اس میں اس نے ٹریفک کے مختلف اصول بتائے ۔ اس نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں بڑی عجیب عجیب باتیں لکھی تھیں ۔ مثلاً اس نے لکھا کہ آپ اپنی گاڑی سڑک پر دوڑاتے ہوئے چلے جا رہے ہیں کہ اچانک سائیڈ کی گلی سے ایک گیند سڑک پر آگئی یہ گیند دیکھ کر آپ کو جاننا پڑتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بچہ بھی آ رہا ہوگا ۔ اگر آپ صرف ” گیند “ کو دیکھیں اور بچہ کو نہ دیکھیں تو آپ ڈرائیور نہیں ہیں ۔ اچھا ڈرائیور صرف وہ ہے جو گیند کو دیکھتے ہی بچہ کو بھی دیکھ لے ، اگر چہ اس وقت بچہ بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے نہ ہو۔ اگر ڈرائیور نے گیند کو دیکھ کر اپنی گاڑی کو بریک نہیں لگایا تو یقینی ہے کہ اگلے لمحہ اس کی گاڑی ایک بچہ کو سڑک پر کچل چکی ہوگی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page