Urdu book · راز حیات

تاریخ سازی

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ سازی بی ٹکمین (B. Tuchman) کا قول ہے کہ تاریخ غلط اندازہ کا ظہور ہے: History is the unfolding of miscalculation. اس کا مطلب یہ ہے کہ حال کے اعتبار سے مبصرین تاریخ کے بارے میں ایک رائے قائم کرتے ہیں۔ مگر حال جب مستقبل بنتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندازے بالکل غلط تھے۔ مستقبل اکثر حالات میں اس سے مختلف صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو ابتدائی طور پر سمجھنے والوں نے اس کے بارے میں سمجھا تھا۔ مثال کے طور پر 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح حدیبیہ ہوئی تھی ۔ اس وقت قریش کے تمام لوگوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں نے خود اپنے خاتمہ کے کاغذ پر دستخط کر دیے ہیں۔ مگر بعد کے سالوں نے بتایا کہ اس بظاہر ہار میں فتح کا عظیم مستقبل چھپا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں 1945 میں جب امریکا کے جنگی جہاز فضا میں چنگھاڑتے ہوئے جاپان پر ایٹم بم گرانے کے لیے روانہ ہوئے تو امریکا کا اندازہ یہی تھا کہ وہ جاپان کو ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بنا رہا ہے۔ مگر اس واقعہ کے 40 سال بعد لوگوں نے دیکھا کہ جاپان دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بن کر ابھر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کو بنانے والا خود انسان نہیں، یہ دراصل خدا ہے جو انسانی تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی ایک یا دوسری صورت دیتا ہے۔ تاریخ کی صورت گری کا فیصلہ غیب سے ہوتا ہے، نہ کہ ظاہری احوال سے۔ تاریخ کے اس مطالعہ میں ان لوگوں کے لیے تسلی کا سامان ہے جن کے متعلق دنیا کے مبصرین سمجھ لیں کہ وہ بجھ چکے ہیں یا ان کو مٹایا جا چکا ہے۔ کیوں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں بظاہر بجھی ہوئی راکھ سے شرارے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہاں ایک مٹی ہوئی شئی دوبارہ زندہ اور طاقتور بن کر زمین پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہاں بظاہر ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) ازسرِ نوزندہ طاقت بن جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page