Urdu book · روشن مستقبل

صبر کی طاقت

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کی طاقت حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا ۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی ۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں ( البقرہ ۲۴۹ ) بائبل کے بیان کے مطابق ، اس وقت بنی اسرائیل کے سردار ( یونتن ) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آہم اُدھر ان نامختونوں کی چوکی کو چلیں ۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے ۔ کیوں کہ خداوند کے لئے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں ( ۱۔ سموئیل ۱۴ : ۶ ) یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : قال الذین یظنون انہم ملاقو جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، اللہ کم من فئة قليلة غلبت انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم فئة كثيرة باذن الله والله مع سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر الصابرین ( البقرہ ۲۴۹ ) کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لئے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقت ور کے معنی میں بھی ہے۔ عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توصیفی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جاہلی دور کے عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے: فانِ الک فی شرارکم قلیل فانی فی خیارکم کثیر قرآن کی اس آیت میں دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل التعداد یا کمزور ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر التعداد یا طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام رہے۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقت ور پر غالب آسکتا ہے۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔ اس فتح وکامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کو ٹی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page