Urdu book · روشن مستقبل

نیا دور

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ ہندی اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں، انھیں یہ بات معلوم ہے کہ اس معاملے میں ہندو تعلیم یافتہ لوگوں نے کثرت سے ایسے مضامین اور خطوط شائع کرائے ہیں جو حد درجہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پر مبنی ہیں۔ جن لوگوں کو ہندی اور انگریزی اخبارات کے مطالعہ کا موقع نہ ملا ہو وہ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں بھی ان کے اقتباسات دیکھ سکتے ہیں۔ یہ واقع بت آتا ہے کہ ہندو قوم واضح طور پر دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک عوام کا طبقہ، اور دوسرے ان کے خواص کا طبقہ۔ یہ صحیح ہے کہ شمالی ہند کے ہندو عوام کی ایک تعداد رام جنم بھومی کے ساتھ ہے۔ مگر دوسرا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ ہندو اور اسی کے ساتھ جنوبی ہند کے تقریباً تمام ہندو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہیں جو واضح طور پر مسلمانوں کی موافقت میں ہے۔ ماضی میں مسلمان اس حقیقت کا شعوری ادراک نہ کرسکے تھے۔ اب اپنے نئے ذہن کے تحت انشا اللہ وہ اس حقیقت کا بھر پور ادراک کریں گے اور اس کے مطابق اپنے ملی منصوبوں کی تشکیل کریں گے۔ ۴۔ وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل نے ۲ نومبر ۱۹۹۰ء نئی دہلی میں ایک تقریر کی۔ انھوں نے اپنی اس تقریر میں جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک بات، ٹائمبس آف انڈیا (۸ نومبر ۱۹۹۰) کی انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ تھی: He said Muslims should realise politicians cannot save them. If anybody can save them, it is the Hindu. They should learn to coexist with us and we will protect them, for every Hindu is secular. مسٹر سنگھل نے ایک مناسب بات غیر مناسب الفاظ میں کہی ہے۔ اس بات کو کہنے کے لئے زیادہ صحیح الفاظ یہ ہیں کہ مسلمانوں کا مسئلہ کوئی بھی حکمران حل نہیں کرے گا۔ مسلمان اپنا مسئلہ صرف اپنی کوشش سے حل کرسکتے ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمان غلط رہنمائی کے نتیجہ میں، ہمیشہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف دیکھتے رہے۔ وہ الیکشن کے مواقع پر پارٹیوں کو ہر اکمریا بہت کر ان سے بڑی بڑی امیدیں باندھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page