Urdu book · روشن مستقبل

پتھر کھسک گیا

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

پتھر کھسک گیا بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے بیان کیا۔ سننے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان میں سے تین آدمی ایک سفر پر نکلے۔ چلتے چلتے رات ہوگئی تو رات گزارنے کے لئے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے ۔ پہاڑوں پر اکثر پتھر گرنے (land slide) کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ رات کے وقت اوپر سے ایک بڑا پتھر لڑھک کر گرا اور اس کی وجہ سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس چٹان سے نجات کی ہمارے پاس اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں ہے کہ ہم اپنے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کریں۔ اب ایک شخص دعا کرنے بیٹھا۔ اس نے کہا : خدایا ، میرے باپ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ میرا معمول تھا کہ روزانہ شام کو جب میں اپنے جانور چرا کر لوٹتا تو جب تک میں ان دونوں کو دودھ نہ پلا لیتا نہ خود دودھ پیتا اور نہ کسی اور کو پلاتا ۔ ایک دن میں چارہ کی تلاش میں دور نکل گیا۔ شام کو واپسی میں اتنی دیر ہوئی کہ میرے ماں باپ سو گئے۔ میں نے ان دونوں کے لئے دودھ نکال کر تیار کیا۔ جب ان کے پاس دودھ لے کر پہنچا تو دونوں کو سوتا ہوا پایا۔ مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں ان کو جگاؤں اور مجھ کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ میں ان سے پہلے دودھ پیوں اور اپنے بچوں کو پلاؤں۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ میرے ہاتھ میں پیالہ تھا اور میں اس انتظار میں تھا کہ جب وہ جاگیں تو میں ان کو دودھ پیش کر دوں۔ اسی حال میں صبح ہو گئی۔ بچے میرے پاؤں کے پاس بلبلاتے رہے۔ صبح کو وہ دونوں اٹھے اور انھوں نے دودھ پیا۔ اس کے بعد ہم سب لوگوں نے دودھ پیا۔ میرے اللہ یہ عمل اگر میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس چٹان کی مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی مگر اتنی زیادہ نہیں کہ وہ تینوں نکل سکیں ۔ اب دوسرے آدمی نے دعا شروع کی۔ اس نے کہا: خدایا ، میرے چچا کی ایک لڑکی تھی ۔ وہ مجھ کو بہت محبوب تھی ، اس سے مجھ کو اسی قسم کی شدید محبت تھی جو مردوں کو عورتوں سے ہوتی ہے۔ میں نے اس سے اپنے نفس کی خواہش پوری کرنی چاہی مگر وہ منع کرتی رہی ۔ کچھ عرصہ بعد وہ قحط سالی کی مصیبت میں پریشان ہوئی ۔ وہ مدد کے لئے میرے پاس آئی ۔ میں نے اس کو ۱۲۰ دینار اس شرط پر دے کہ وہ مجھ کو اپنے اوپر قابودے دے۔ وہ اس کے لئے تیار ہوگئی ۔ یہاں تک کہ جب میں اس کے اوپر پوری طرح قادر ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا : خدا سے ڈر اور مہر کو اس کے حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں اس سے باز آگیا حالاں کہ وہ مجھ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page