خدا کی حفاظت میں
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
طفیل میں حاصل ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس سنت الہی کا ظہور بہت بڑے پیمانہ پر ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے، انھوں نے اپنی غلط رہنمائی سے مسلمانوں کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے اندر کسی بھی قسم کی بنیاد (base) فراہم نہ کر سکے۔ بے شمار ہنگامہ خیز تحریکیں صرف ان کی قوتوں کو ضائع کرتی رہیں۔ کوئی بھی تحریک انھیں وقت کی چیزوں میں سے کوئی چیز نہ دے سکی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے برتر انتظام کے تحت انھیں ہر چیز فراہم کر دی۔ لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان جدید اقتصادیات میں اپنی جگہ نہ بناسکے۔ قریب تھا کہ وہ زمانہ جدید کے ہر تہہ بن کر رہ جائیں۔ مگر عین وقت پر تیل کا خزانہ ظاہر ہوا۔ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تیل کے ذخائر کا ۵۰ فی صد سے بھی زیادہ حصہ رکھ دیا۔ اس قدرتی خزانہ نے مسلمانوں کے اقتصادی پچھڑے پن کی تلافی کر دی۔ کائنات میں ایسے حقائق چھپے ہوئے تھے جو قرآن کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرنے والے تھے۔ مگر مسلم قائدین اپنے جھوٹے مشغولوں کی وجہ سے حقائق کائنات کی دریافت کے عمل میں نہ لگ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام مغربی قوموں سے لیا۔ انھوں نے حقائق فطرت کو دریافت کرکے اس بات کی علی تفسیر فراہم کر دی کہ ہم ان کو آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ حق ہے (حم السجدہ) اللہ تعالیٰ کو اس دین کی آواز سارے کرہ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچانی تھی۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے عالم فطرت کے اندر وسائل اعلام کے نہایت اعلی ذرائع چھپا رکھے تھے۔ مگر مسلم رہنما یہاں بھی ان چیزوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کو اس تحقیق پر لگا دیا۔ یہاں تک کہ وہ تمام اشاعتی ذرائع وجود میں آگئے جن کو پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔ ان ذرائع کے ظہور میں آنے کے بعد اب یہ نہایت آسان ہو گیا کہ ان کو استعمال کر کے اسلام کی آواز تمام کرہ ارض میں پھیلادی جائے۔ اس طرح کے بہت سے پہلو ہیں جو بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنی مدد دے مسلمانوں کی کوتاہیوں کی تلافی کی ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خدا کے اس معاملہ کو جانیں اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اس خدمت اسلام میں لگ جائیں جس کے لئے ان کے رب نے ان کے ساتھ حفاظت و نصرت کا یہ خصوصی معاملہ فرمایا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader