روزہ اور اخلاق
Urdu book, PDF p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ اور اخلاق حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إذا كان يومُ صوم أحدكم فلا يرفثْ، ولا يَصْحَبْ، فإن سابّه أحدُ أو قاتله فليقل: إنّی امرء صائم (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1805) یعنی جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ بے ہودہ گوئی نہ کرے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے، یا اُس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی برے اخلاق کو چھوڑ دے، وہ کسی معاملے میں شور و غل کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر دوسرا شخص اُس کو اشتعال دلائے، تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ وہ مشتعل ہو کر خود بھی وہی کرنے لگے جو دوسرا شخص اس کے خلاف کر رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ صرف ایک رسمی عمل کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا مقصد آدمی کے اندر گہری اسپرٹ پیدا کرنا ہے، ایسی اسپرٹ جو اس کی سوچ کو بدل دے، جو اس کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردے، جو اس کے کردار میں انقلاب برپا کردے ۔ سچا روزے دار وہ ہے جس کا روزہ اس کی پوری شخصیت کو ربانی شخصیت بنادے۔ سچا روزہ انسان کو آخری حد تک ایک | اس سے اندازہ ہوتا ہے سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کی زندگی | کہ روزہ صرف ایک رسمی عمل کا نام نہیں کے ہر پہلو میں سنجیدگی کا رنگ غالب | ہے، بلکہ روزے کا مقصد آدمی کے اندر گہری آجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اتنا گہرا | اسپرٹ پیدا کرنا ہے، ایسی اسپرٹ جو اس کی ہوتا ہے کہ دوسروں کا اشتعال انگیز | سوچ کو بدل دے، جو اس کے مزاج میں رویہ بھی اس کو سنجیدگی کے راستے سے | تبدیلی پیدا کردے، جو اس کے نہیں ہٹاتا۔ وہ سماج کا ایک پُرسکون ممبر | کردار میں انقلاب برپا کردے ۔ (peaceful member) ہوتا ہے، وہ سماج میں لوگوں کے لیے کسی طرح کا کوئی پرابلم کھڑا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ سچا روزے دار ایک متواضع (modest) انسان ہوتا ہے، نہ کہ سرکش انسان۔ سچا روزے دار اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو تو چھوڑے، لیکن وہ بُرے اخلاق کو نہ چھوڑے۔ وہ کھانے پینے کے معاملے میں اپنے معمول کو بدل لے، لیکن وہ اپنی زندگی کی روش میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔۔ حلال سے روزہ، حرام سے افطار حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت اور برائی بیان کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے بارے میں معلوم ہوا، تو آپ نے فرمایا: اِنّهما لم يصوما، و كيف صام مَن ظَلَّ هذا اليوم يأكل لُحوم الناس (كنز العُمّال، رقم الحديث: 8016) یعنی اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ بھلا اُس کا روزہ کیسے ہوگا جو روزہ رکھے اور غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھائے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: إنّ هاتين صامتا عمّا أحلّ الله لهما وأفطرتَا على ما حرّم الله عليهما (مجمع الزّوائد، رقم الحديث: 5008) یعنی انھوں نے اُس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ نے اُن کے لیے حلال کیا تھا، اور پھر انھوں نے اُس چیز سے افطار کر لیا جو اللہ نے اُن کے لیے حرام کیا تھا۔ اِس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے میں صرف یہ حرام نہیں ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا کھالے اور پانی پی لے، اِس کے سوا بھی کچھ چیزیں حرام ہیں اور وہ روزے کو باطل کرنے والی ہیں۔ مثلاً دوسروں کی برائی بیان کرنا۔ جو آدمی روزہ رکھے اور کھانے پینے کی چیزوں سے بچا رہے، لیکن اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کی برائی بیان کرے، تو اُس کا روزہ مطلوب روزہ نہ ہوگا، اِس کا روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے ہم معنی ہوگا۔
