روزہ کی حقیقت
Urdu book, PDF p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ کی حقیقت رمضان میں ایک مہینے کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے، یعنی دن کے اوقات میں کھانے اور پینے کو پوری طرح چھوڑ دینا۔ دوسرے لفظوں میں، آدمی سال کے گیارہ مہینے تک کھانے اور پینے کا تجربہ کرتا ہے اور سال کے ایک مہینے میں وہ یہ تجربہ کرتا ہے کہ نہ کھانا کیا ہے اور نہ پینا کیا۔ یہ گویا خوراک زندگی کے بعد بے خوراک زندگی کا تجربہ ہے، یہ آزاد زندگی کے بعد پابند زندگی کا تجربہ ہے۔ غذا کی حیثیت ایک علامت (symbol) کی ہے۔ غذا علامتی طور پر یہ بتاتی ہے کہ خدا نے اس دنیا میں استثنائی طور پر انسان کے لیے وہ عظیم سسٹم بنایا ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ وسیع کائنات میں اُن گنت ستارے (stars) اور سیارے (planets) ہیں، لیکن کہیں بھی وہ لائف سپورٹ سسٹم موجود نہیں جو صرف ہماری زمین میں خصوصی طور پر پایا جاتا ہے۔ روزے کا مہینہ دراصل اسی عظیم نعمت کے لیے ایک یاد دہانی (reminder) کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزے کا مہینہ یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر زمین پر لائف سپورٹ سسٹم موجود نہ ہو تو انسان کا کیا حال ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان، آدمی کو لائف سپورٹ سسٹم کی اہمیت یاد دلاتا ہے، تاکہ وہ شکرِ خداوندی کے احساس میں غرق ہو جائے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر انسان بے یارومددگار ہو کر رہ جائے گا۔ وہ عجز کے آخری مقام پر پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد زمین پر پانی نہ ہوگا جس کو وہ پئے، خوراک نہ ہوگی جس کو وہ کھائے، آکسیجن نہ ہوگا جس میں وہ سانس لے، سورج کی روشنی نہ ہوگی جس میں وہ چلے پھرے، زمین میں قوتِ کشش نہ ہوگی جس کے اوپر وہ اپنے تمدن کی تعمیر کرے، وغیرہ۔ Watch Maulana Wahiduddin Khan's lectures live on USTREAM.tv English - Saturday 5.30 pm (IST) Urdu - Sunday 10.30 pm (IST) Visit alrisala.org for the ustream link قرآن میں روزے کے فائدے کو بتانے کے لیے دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں: لعلكم تتقون (البقرة: 183)، لعلكم تشكرون (البقرة: 183)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان، آدمی کو لائف سپورٹ سسٹم کی اہمیت یاد دلاتا ہے، تاکہ وہ شکرِ خداوندی کے احساس میں غرق ہو جائے۔ اسی طرح، روزہ آدمی کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر یہ لائف سپورٹ سسٹم نہ ہو تو اس کی پوری زندگی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ روزہ، ایک اعتبار سے، تقویٰ کا مزاج پیدا کرتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے شکر کا مزاج۔ اور بلاشبہہ انھیں دونوں قسم کے احساسات میں جینے کا نام اسلام ہے۔ روزہ بیک وقت دو چیزوں کی تربیت ہے۔ ایک، شکر اور دوسرے، تقویٰ۔ کھانا اور پانی اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں، مگر عام حالات میں آدمی کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ روزے میں جب آدمی دن بھر ان چیزوں سے رُکا رہتا ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد شدید بھوک، پیاس کی حالت میں وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے، تو اُس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا اور پانی، اللہ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ اس تجربے سے آدمی کے اندر اپنے رب کے شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف، روزہ آدمی کے لیے تقویٰ کی تربیت ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے، وہ اُن چیزوں سے رکا رہے جن سے خدا نے اُس کو روکا ہے اور وہ وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اس کو اجازت دی ہے۔ روزے میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا، پینا چھوڑ دینا، گویا اللہ کو اپنے اوپر نگرساں بنانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دارانہ زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھڑا کر، آدمی کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر کے لیے اُن چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے رب کو ناپسند ہیں۔ Watch Maulana Wahiduddin Khan on ETV Urdu Tue and Wed 10.30 pm Sat and Sun 6.00 am
