تاریخ ساز بنے
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ناظم درس گاہ کی زبان سے بھی ہرگز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اسی لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان کو سمجھ سکے کہ وہ دشوار حالات میں تھے۔ آسانیوں کی فضا میں انھیں یہ سبق نہیں مل سکتا تھا۔ جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بدقسمتی تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے۔ اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں، جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہیں۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوز و درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنا دیتی ہیں۔ مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں، جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔ اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ ”چھپر “کے دور سے نکل کر ”بلڈنگ“ کے دور میں داخل ہو چکا ہے، اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے تو اس میں تذبذب کا مرحلہ لازماً آتا ہے، لیکن اگر وہ جما رہے تو استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے بھی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ حوصلہ کا نام طاقت نومبر کا مہینہ تھا اور رات کے تقریباً 12 بجے کا وقت۔ طالب علم اپنے کمرہ میں سورہا تھا۔ اس کی چار پائی کے پاس شیلف میں مجلد کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ طالب علم نے نیند کی حالت میں کروٹ لی اور اس کا ہاتھ شیلف پر چلا گیا۔ اچانک وہ ایک چیخ کے ساتھ اٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو ہاتھ کی انگلی میں دانت دھنسنے کا نشان تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ ” مجھے سانپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader