Urdu book · سچا راستہ

سچائی کیا ہے

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

روحانی شخصیات کا دعویٰ ہے یا کم از کم ان کے ماننے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ سچائی سے باخبر ہیں اور سچائی کے بارے میں قطعی معلومات دے سکتے ہیں۔ مگر اس عقیدہ کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں، روحانی شخصیات اپنے دعوے کے مطابق جس ذریعہ سے سچائی تک پہنچتی ہیں وہ روحانی ریاضتیں ہیں۔ مگر نام نہاد روحانی ریاضتیں حقیقۃً جسمانی ریاضتیں ہیں اور جسمانی ریاضتوں کے ذریعہ روحانی دریافت بجائے خود ایک بے اصل بات ہے۔ دوسرے یہ کہ کوئی بھی روحانی شخصیت، اپنی ذات میں، ان محدودیتوں سے خالی نہیں ہے جن محدودیتوں کا شکار اس کے جیسے دوسرے تمام انسان ہیں۔ دوسرے انسان اپنی جن محدودیتوں کی وجہ سے سچائی تک نہیں پہنچ سکتے وہی محدودیتیں خود ان روحانی شخصیتوں کی راہ میں بھی حائل ہیں۔ کسی بھی قسم کی ریاضت آدمی کو اس کی فطری محدودیتوں سے بالا نہیں کر سکتی، اس لئے کسی بھی قسم کی ریاضت اس کو مطلق سچائی تک نہیں پہنچا سکتی۔

اس کے بعد میدان میں صرف پیغمبر رہ جاتے ہیں۔ پیغمبر وہ انسان ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کو چنا ہے اور اس پر سچائی کا علم اتارا ہے تاکہ وہ اس کو دوسرے تمام لوگوں تک پہنچادے۔ اپنی نوعیت کی حد تک یہی ایک دعویٰ ہے جو اس معاملہ میں قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ سچائی کا حقیقی علم صرف خدا ہی کو ہو سکتا ہے جو ازلی و ابدی ہے اور تمام حقیقتوں سے براہ راست واقف ہے۔ خدا کا خدا ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ حقیقت کا کلی علم رکھتا ہو۔ اس لئے جو شخص یہ کہے کہ اس کو براہ راست خدا کی طرف سے سچائی کا علم پہنچا ہے اس کا دعویٰ یقیناً اس قابل ہے کہ اس معاملہ میں اس کا لحاظ کیا جائے۔

یہاں ایک سوال ہے۔ پیغمبر ہماری دنیا میں کوئی ایک نہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی کہی ہیں۔ پھر کس پیغمبر کو مانا جائے؟ تاہم آدمی اگر سچائی کی تلاش میں سنجیدہ ہو تو اس سوال کا جواب معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ بلاشبہ ماضی میں خدا نے بہت سے پیغمبر بھیجے مگر انسان کے پاس ماضی کے کسی واقعہ کو ماننے کا واحد معیار یہ ہے کہ اس کو تاریخی اعتبار یت حاصل ہو، اور ایک کے سوا دوسرے تمام پیغمبر اس انسانی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ آج ایک ہی پیغمبر تاریخی پیغمبر ہیں اور دوسرے تمام پیغمبر عملاً اعتقادی پیغمبر۔ دنیا میں جتنے پیغمبر گزرے ہیں ان میں صرف ایک ہی پیغمبر ہیں جن کو پورے معنوں میں تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل ہے۔ اور وہ ہیں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں ہر بات تاریخی طور پر معلوم اور مسلم ہے۔ موجودہ زمانہ کی کسی شخصیت کے بارے میں ہم جتنا جانتے ہیں اس سے بھی زیادہ ہم پیغمبر عربی کے بارے میں جانتے ہیں۔ آپ کے سوا دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page