Urdu book · سچا راستہ

آغاز کلام

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

آغاز کلام سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔ مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے ڈوب جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑا ہو۔ آسمان کی بلندیاں، زمین کے مناظر سب ایک بہت بڑے ”اجتماع“ کے شرکا ر معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوتا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا ایک عظیم عجائب خانہ ہے۔ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ پیغمبر اسی بے الفاظ خدائی کلام کو الفاظ دیتا ہے۔ وہ خاموش پیغام کو ہمارے لئے سننے کے قابل بناتا ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ خدا کا وہ دین کون سا ہے، جو اس کو انسان سے بھی مطلوب ہے اور بقیہ کائنات سے بھی۔ پیغمبر کے لائے ہوئے اس دین کی بنیاد قرآن پر ہے جو خدا کی طرف سے عربی زبان میں اتارا گیا ہے۔ پھر اس کتاب کی مزید وضاحت سنت سے ہوتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کی صورت میں کتابوں کے وسیع ذخیرہ میں مرتب ہو کر موجود ہے۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس کو جاننا چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ ان کتابوں کو پڑھے کیونکہ یہی وہ کتابیں ہیں جو دین خدا وندی کو سمجھنے کے لئے اصل مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو لوگ ان کتابوں کے پورے ذخیرے کے مطالعہ کا وقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے کم سے کم مختصر نصاب ذیل میں درج کیا جاتا ہے : قرآن مجید سيرة نبوی از حافظ ابن کثیر مشكوة المصابيح حياة الصحابہ از مولا نا محمد یوسف کاندھلوی یہ سب معروف مشہور کتابیں ہیں اور ہر جگہ با آسانی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ کتابیں اصلا عربی زبان میں ہیں۔ تاہم ان کے ترجمے مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں پڑھنے والا اپنی سہولت کے مطابق ان کو اپنی مطلوبہ زبان میں حاصل کر کے پڑھ سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب اسی دین خداوندی کے عمومی اور ابتدائی تعارف کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اگر وہ پڑھنے والے کے اندر یہ شوق پیدا کر دے کہ وہ اس دین کا مزید تفصیلی مطالعہ کر کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرے تو یہی اس کی کامیابی کے لئے کافی ہے۔ وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page