Urdu book · سفر حیات

سفر حیات

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اگر وہ جسم کے سیل پر موجود رہا ہو تو حافظہ کو ختم ہو جانا چاہئیے۔ لیکن سیل کے فنا ہونے کے با وجود حافظہ کا باقی رہنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی شخصیت، جسم سے ماورا ایک مستقل وجود ہے۔ وہ معروف موت کے با وجود اپنے آپ کو باقی رکھتی ہے۔ 4۔ اس سلسلے میں آخری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لیے جو طرز استدلال رائج ہے، اور جس معیار پر وضاحت کے بعد چیزیں ثابت شدہ مان لی جاتی ہیں، اسی معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسی اور معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا کرنا غیر علمی بات ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زندگی بعد موت بھی اسی طرح ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس طرح زندگی قبل موت ایک ثابت شدہ واقعہ سمجھی جاتی ہے۔ خالص منطقی اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دستک آخرت میں خدا کی جنت کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولے جائیں گے جو دنیا میں اپنے دل کے دروازے خدا کی نصیحت کے لیے کھولیں۔ جنت اور جہنم کا فیصلہ در اصل دل کی دنیا میں ہوتا ہے۔ خدا اپنے کسی بندے کے ذریعہ آدمی کے دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ وہ کسی بندۂ خاص کے ذریعہ اس کے پاس اپنا پیغام بھیجتا ہے۔ یہ لمحہ کسی انسان کی زندگی میں نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے کھول دے تو گویا کہ اس نے اپنے لیے جنت کا دروازہ کھول لیا۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے بند رکھے تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت کے دروازے کو بند کر لیا۔ اس دنیا میں حق کا قبول کرنا یا حق کا انکار کرنا ہی وہ خاص لمحہ ہے جب کہ آدمی کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page