Urdu book · سفر حیات

دیوارِ قہقہہ

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر اپنے لیے خوشیوں کی ایک زندگی چاہتا ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو متلاشی مسرت حیوان (joy-seeking animal) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم انسان نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی زندگی مختلف قسم کے غم سے بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے لیے ایک پُرمسرت زندگی کی تلاش شروع کردی۔ اس تلاش کا غالباً پہلا نمایاں واقعہ پہیہ (wheel) کی دریافت تھی۔ پہیے کی دریافت کے بعد تلاش مسرت کا یہ انسانی سفر شروع ہو گیا۔ اس سفر کو ایک متعین نام دینا ہو تو اُس کو تہذیب کا سفر کہا جا سکتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر چلتا رہا۔ لمبی مدت کے بعد آخر کار یہ سفر جدید تہذیب (modern civilization) کے دور تک پہنچ گیا۔ اب اُس کو تیز رفتار سفر کے لیے مشین کی طاقت حاصل ہو گئی۔ جدید کمیونی کیشن کا زمانہ آیا اور جسمانی سفر کے بغیر انسان کی آواز اور اس کی متحرک تصویر بعید ترین مسافت تک پہنچنے لگی۔ جدید انڈسٹری نے کنزیومر ازم (consumerism) کا دور پیدا کیا، جب کہ راحت اور آسائش کی تمام چیزیں غلے اور سبزی کی طرح بازار میں بکنے لگیں، وغیرہ۔ اس طرح انسانی تہذیب کا کامیابی کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے ہوئے آخر کار اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ گئی، لیکن اس آخری منزل پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک نیا شدید تر مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اب یہ ہوا کہ دیوار قہقہہ (laughter wall) اُن کے لیے ایک نئی قسم کی دیوارِ گریہ (wailing wall) بن گئی۔ اب معلوم ہوا کہ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد جو دنیا اپنے لیے بنائی تھی، وہ انسان کے لیے خوشیوں کی دنیا نہ تھی، بلکہ وہ صرف نئی ناقابلِ عبور مصیبتوں کی ایک دنیا تھی۔ چناں چہ اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب ایک بندگی (blind alley) تک پہنچ کر انسانی تاریخ کے خاتمہ (end of history) کے ہم معنی بن گئی۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک ہے، وہ یہ کہ خوشیوں کی ایک دنیا بنانے کے لیے ایک مکمل انڈسٹری درکار ہے۔ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد ایک ایسی انڈسٹری تیار کی، لیکن جب یہ انڈسٹری تیار ہو گئی تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انڈسٹری ایک نیا ناقابلِ عبور مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page