سفر حیات
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
میں انسان اپنی جنت نہیں بنا سکتا۔ ہماری زمین اگرچہ بہت خوب صورت ہے، مگر وہ اتنا زیادہ پر خطر (vulnerable) ہے اور یہاں اتنی محدودیتیں (limitations) ہیں کہ وہ جنت کا مسکن (abode) نہیں بن سکتی۔ ہماری زمین جنت کا ایک ابتدائی تعارف ہے مگر وہ خود جنت نہیں۔ جنت کی تعمیر کے لیے ہم کو ایک اور دنیا چاہیے، ایک ایسی دنیا جو کہ لامحدود (unlimited) ہو۔ جو ہر قسم کے خوف سے پاک ہو۔ جنت ایک کامل (perfect) دنیا چاہتی ہے، جب کہ موجودہ دنیا ہر اعتبار غیر کامل (imperfect) ہے۔ اور غیر کامل زمین پر کامل جنت نہیں بنائی جاسکتی۔ انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے، مگر انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور (concept) بتاتا ہے کہ جنت ورلڈ ٹوماررو (world-tomorrow) میں قابل حصول ہے، ورلڈ ٹو ڈے (world-today) میں وہ قابل حصول نہیں۔ اس حقیقت کو جاننا بلاشبہ سب سے بڑا وزڈم (wisdom) ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان کر 'کل' پر مبنی لائف بنا سکیں وہ کامیاب ہیں اور جو لوگ اپنی زندگی صرف 'آج' پر مبنی کر کے بنائیں، وہ ناکام ہیں۔ کل کا سورج کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھی کا تحفہ دیا تھا۔ یہ چار سو ہاتھی دوہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گیے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ نہ کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ جہاں آج 'جنگل' نظر آتا ہے، وہاں کل 'میدان' نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہاں جب کل کا سورج نکلتا ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہے ہیں۔ زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader