Urdu book · سفر حیات

ایک دورِ حیات کا خاتمہ

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح انسان نے خدا کے تخلیقی نقشے کو بدل دیا۔ یہاں تک کہ اس نے موجودہ تہذیب پیدا کی جو آخری معنوں میں اسی فارمولے پر قائم ہے۔ خدا نے ہزاروں سال تک انتظار کیا کہ انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرے ۔ وہ خدا کی دنیا میں اپنا ذاتی ایجنڈا چلانا بند کر دے۔ وہ اپنی اصلاح کر کے خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، اپنی زندگی کی تعمیر کرے ۔ وہ موجودہ دنیا کے مواقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے کہ وہ خدا کا وہ مطلوب بندہ بن جائے جس کو خدا اپنی ابدی جنت میں بسانے کے لیے منتخب کرے گا۔ مگر انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار نہیں ، یہاں تک کہ انسان کے اوپر خدا کی حجت تمام ہوگئی۔ اب انسان نے وہ جواز کھودیا جس کے تحت وہ زمین پر بسا ہوا تھا— موجودہ گلوبل وارمنگ دراصل اسی حقیقت کا پیشگی انتباہ ہے۔ اس صورت حال میں ہر مذہب کے لوگوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ دنیا کو آنے والے بھیانک خطرے سے آگاہ کریں۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اب تیاری کا آخری موقع ختم ہونے والا ہے۔ کسی تاخیر کے بغیر ہوشیار ہو جاؤ اور خدا کے نقشے کے مطابق ، زندگی گزارنا شروع کر دو۔ لیکن ہر مذہب کے لوگ ، بشمول مسلمان ، کسی ” آنے والے“ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ کوئی آنے والا پر اسرار طور پر آئے گا اور معجزاتی طاقت کے ذریعے وہ سارے کام کو انجام دے دے گا۔ مگر یہ سخت بھول کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی پر اسرار ہستی آنے والی نہیں ۔ جو چیز آنے والی ہے، وہ صرف قیامت ہے۔ اور قیامت جب آئے گی تو وہ کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کرے گی۔ اُس کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ یکساں ہوگا۔ غیر مومن کے اوپر جو کچھ قیامت میں گزرے گا، وہ مومن کے اوپر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page