Urdu book · سفر حیات

واپسی ممکن نہ ہوگی

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

واپسی ممکن نہ ہوگی آج کل کے لوگوں کو جب میں ہنستے ہوئے اور تفریح کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک عجیب دھکا لگتا ہے۔ شدتِ احساس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ کیسا عجیب انجام ان کے سامنے آنے والا ہے، لیکن وہ اس سے بے خبر ہو کر قہقہہ لگا رہے ہیں۔ وہ جلد ہی ایک بھیانک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ وہ اس انجام سے اپنے آپ کو ہرگز بچا نہیں سکتے، لیکن اُس سے کامل بے خبری کی بنا پر وہ قہقہہ لگا رہے ہیں۔ حالاں کہ ضرورت یہ تھی کہ وہ چپ ہو جائیں اور آنے والے بھیانک انجام سے بچنے کی تدبیر کریں۔ یہ انجام موت ہے۔ ہر آدمی جو پیدا ہوا ہے، اس کو بہر حال مرنا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا اور نہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندگی سے محروم کرلے۔ پیدا ہونے کے بعد ہر آدمی ابدی ہو چکا ہے۔ ہر آدمی کو بہر حال جینا ہے، حتی کہ موت کے بعد بھی۔ موت کے بعد اچانک ہر آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پائے گا، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اس اگلی دنیا میں آدمی اس حال میں پہنچے گا کہ اُس کے پاس موجودہ دنیا کی طرف دوبارہ آنے کے لیے رٹرن ٹکٹ نہ ہوگا۔ موجودہ دنیا عمل کی دنیا ہے، یہاں کوئی جزا نہیں۔ اگلی دنیا جزا کی دنیا ہوگی، وہاں کسی کے لیے عمل کا موقع نہ ہوگا۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا مقدر ہے، کوئی بھی شخص اپنی اس تقدیر کو بدل نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ پیدا کرنے والے کا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔ پیدا کرنے والے نے یہ عجیب و غریب دنیا کیوں بنائی اور اس کے اندر انوکھی صلاحیتوں والا انسان کس لیے بسایا۔ لوگوں کی موجودہ بے خبری اس تخلیقی پلان کو نہ جاننے کی بنا پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اور انجام اُن کے سامنے آنے والا نہیں۔ اگر انسان یہ جانے کہ وہ ایک لمبے سفر کا مسافر ہے۔ اس کو موجودہ دنیا سے گزر کر آخرت کی دنیا میں داخل ہونا ہے تو اس کی زندگی کا سارا نقشہ بدل جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page