Urdu book · سفر حیات

تکاثر سے قبر تک

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

تکاثر سے قبر تک قرآن کی سورہ التکاثر میں انسان کی ایک عمومی حالت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: اَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ۝ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (102: 1-2)۔ یعنی زیادہ سے زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ وہ اسی عمل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلا جاتا ہے کہ اس نے جس چیز کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا تھا، اس کو وہ حاصل نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ مال برائے ضرورت کی ایک حد ہے۔ اس کے برعکس مال برائے مال کی کوئی حد نہیں۔ اگر انسان ضرورت کے لئے مال حاصل کرنا چاہے تو ایک حد پر پہنچ کر اس کو اطمینان حاصل ہو جائے گا۔ لیکن انسان اگر مال برائے مال کو اپنی زندگی کا نشانہ بنائے تو اس کی طلب کی کبھی حد نہیں آئے گی۔ انسان بے اطمینانی کی حالت میں جئے گا، اور بے اطمینانی کی حالت میں مر جائے گا۔ امریکہ کے مشہور دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے اپنی زندگی کا مقصد یہ بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن گئے۔ لیکن آخر میں ان کو محسوس ہوا کہ میری ضرورت تو محدود ہے۔ پھر اس کثیر دولت کا کیا استعمال۔ انھوں نے اپنے ایک لیکچر میں کہا کہ: Once you get beyond a million dollars, it is the same hamburger. یعنی تم خواہ کتنی ہی زیادہ دولت حاصل کر لو، مگر تمھاری ضرورت تو بدستور وہی سینڈوچ رہے گی ۔ یہ ہر اُس آدمی کا انجام ہوتا ہے، جو زیادہ دولت کمانے کو اپنا نشانہ بنائے ۔ آخر میں عدم اطمینان کے سوا کچھ اور اس کے حصے میں آنے والا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page