احتساب یا استقبال
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
احتساب یا استقبال ایکسپریس ٹرین تیزی سے دہلی کی طرف بھاگی جا رہی تھی۔ گھڑی بتا رہی تھی کہ اسٹیشن اب قریب آ گیا ہے۔ فرسٹ کلاس ڈبہ میں ایک عورت اپنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ ماں بیٹی کے درمیان طرح طرح کی تفریحی باتیں جاری تھیں۔ اتنے میں بچی نے اپنی مخصوص زبان میں اپنی ماں سے کہا: ممی نانی کا گھر کب آئے گا۔ بے خبر بچی صرف اپنی نانی کو جانتی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ نانی کے گھر جارہی ہے۔ مگر یہ اس کی سادگی تھی۔ کیوں کہ بچی اور دوسرے تمام مسافر حقیقت خدا کے گھر‘‘ کی طرف جا رہے تھے۔ دہلی ان کا درمیانی اسٹیشن تھا نہ کہ آخری اسٹیشن۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو اسکو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ انسانی ٹرین پر نہیں ہے، بلکہ وہ خدائی سواری پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس سواری کو کھینچنے والا کودخانی یا کہربائی انجن نہیں، بلکہ یہ خدا کے فرشتے ہیں جو اس کو دنیا سے آخرت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ مسافروں میں اگر یہ احساس زندہ ہو تو ان کا حال کچھ سے کچھ ہو جائے۔ اس کے بعد جب وہ وقت آئے گا کہ ٹرین دہلی کے اسٹیشن پر رکے تو نا سمجھ بچی کے لیے اگر چہ وہ نانی کا گھر‘‘ ہوگا جہاں اس کی نانی اس کا استقبال کرنے کے لیے پہلے سے اسٹیشن پر موجود ہوگی۔ مگر سچے مسافر کے لیے وہ خدا کا گھر ہو گا جہاں خدا کے فرشتے ہر آنے والے کو اپنے قبضہ میں لے رہے ہوں گے۔ آج کی دنیا میں ہر آدمی چھوٹی نا سمجھ بچی کی طرح بنا ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی نانی کے گھر‘‘ جا رہا ہے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا کے گھر کی طرف جا رہا ہے۔ وہ استقبال کے اسٹیشن پر نہیں بلکہ احتساب کے اسٹیشن پر اترنے والا ہے۔ کتنا زیادہ فرق ہے لوگوں کی سوچ میں اور اصل حقیقت واقعہ میں۔ لوگ اپنے اسٹیشن‘‘ پر استقبال کرنے والوں کی بھیڑ دیکھ رہے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ تھی کہ انھیں اسٹیشن کے اوپر احتساب کرنے والے فرشتوں کا ہجوم نظر آنے لگے۔ بے خبری کی تمام قسموں میں یہ بے خبری سب سے زیادہ عجیب ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader