Urdu book · سفر حیات

ڈرواس سے جوقت ہے آنے والا

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

نیا سال جب آتا ہے تو وہ ہر عورت اور ہر مرد کی عمر کا ایک سال اور کم کر دیتا ہے۔ موت ایک ایسا آنے والا واقعہ ہے جو ہر ایک پر آتا ہے۔ موت ایک چیتاونی ہے، وہ یاد دلاتی ہے کہ آخر کار ہر عورت اور مرد کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ خدا کی عدالت میں حاضری کی مدت بہت قریب ہے۔ موت ہر ایک کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اے سونے والو، جاگ اٹھو، اور اے جاگنے والو، ہوشیار ہو جاؤ۔ تم جلد ہی خدا کی کائنات عدالت میں حاضر کئے جانے والے ہو۔ اس آنے والے بڑے دن کی تیاری کرو۔ ہر صبح کو جب آسمان پر سورج طلوع ہوتا ہے تو گویا کہ خدا اپنی کائنات ٹارچ کو جلا کر انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ خدا ہر عورت اور ہر مرد کو دیکھ رہا ہے۔ بولنے والوں نے کیا بولا اور چلنے والے کس راہ پر چلے، کسی عورت یا مرد کو خدا نے جو کچھ دیا ہے اس نے اس کو کس طرح استعمال کیا۔ ہر چیز سے خدا پوری طرح آگاہ ہے۔ یہ صورت حال پکار کر ہر عورت اور ہر مرد سے کہہ رہی ہے کہ تم جب سوچو تو یہ دھیان میں رکھ کر سوچو کہ خدا تمہاری سوچ تک کو جانتا ہے۔ جب تم بولو تو یہ سوچ کر بولو کہ تمہارے الفاظ دوسرے انسان تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہے ہیں۔ جب تم کوئی کام کرو تو یہ سمجھ کر کرو کہ تمہارا ہر کام خدا کی نظر میں ہے اور ہر کام پر تم کو خدا کی طرف سے سزا یا انعام ملنے والا ہے۔ ہر پیدا ہونے والی عورت اور ہر پیدا ہونے والے مرد پر لازم ہے کہ وہ خدا رخی زندگی کا طریقہ اختیار کرے ۔ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ وہ وقتی خواہشوں سے بلند ہو اور وہ روش اختیار کرے جو اس کے ابدی مستقبل کے لیے کارآمد ہو۔ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بندہ ہونے کی حیثیت کو پہچانے۔ وہ خدا کی خدائی کا اقرار کرے ۔ وہ خدا کے آگے پوری طرح جھک جائے۔ وہ خدا کا کامل پرستار بنے۔ وہ اپنے دماغ کو برے خیالات سے پاک کرے ۔ وہ لوگوں کا خیر خواہ بنے نہ کہ بد خواہ۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری کے ساتھ ادا کرے۔ وہ ایسے مال کو اپنے لیے حرام سمجھے جو جائز طور پر اس کا حق نہیں۔ اس کو کوئی عہدہ ملے تو اس عہدہ کو وہ ایک ذمہ داری سمجھے نہ کہ ایک اعزاز۔ وہ نفرت اور تشدد سے پوری طرح اپنے آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page