Urdu book · سفر حیات

تقدیر انسانی

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

خوشی نہیں ملتی کہ وہ اس خوبصورت باغ میں داخل ہو سکے۔ فطرت میں یہ تضاد کیوں ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں ایسا تضاد کہیں موجود نہیں۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی پوری دنیا اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ پھر یہ تضاد استثنائی طور پر صرف انسان کی زندگی میں کیوں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی دوسری چیزوں کے درمیان ایک بے حد بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کے دومر حلے ہیں ـــ موت سے پہلے کا مرحلہ حیات اور موت کے بعد کا مرحلہ حیات۔ اس کے برعکس کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا صرف ایک مرحلہ ہے۔ یعنی وجود میں آنا اور پھر ایک دن مٹ جانا، پیدا ہونا اور پھر مر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا۔ اصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ اپنے پہلے مرحلہ حیات میں پانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے دوسرے مرحلہ حیات میں مقدر کیا گیا ہے۔ اور جو چیز سفر حیات کے اگلے مرحلے میں ملنے والی ہو، وہ سفر حیات کے ابتدائی مرحلے میں کبھی کسی کو نہیں ملتی۔ اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ انسان کے لیے فطرت کا ایک خصوصی قانون ہے جو اس کائنات کی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کو عمل اور جزا کے اصول کے تحت رکھا گیا ہے۔ یعنی موت سے پہلے کے مرحلہ حیات میں عمل کرنا اور موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں اس کا انجام پانا۔ یہی قانون انسان کی زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے بعد انسان کی پوری زندگی بامعنی بن جاتی ہے۔ یہ قانون انسان کی زندگی کے تمام سوالات کا کامل جواب فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کو جاننے کے بعد پوری انسانی زندگی کی تشفی بخش تو جیہہ مل جاتی ہے۔ اس قانون کے مطابق موت سے پہلے کی دنیا انسان کے بیج ڈالنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا اس کے نتیجے میں ہرابھر اور درخت اور پھول پھل پانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا میں پھول اور پھل حاصل کرنے کی لا حاصل کوشش نہ کرے بلکہ وہ اپنی ساری تو جہہ بہترین طور پر تخم ریزی میں لگا دے۔ یہ وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت کی صورت میں وہ سب کچھ پالے گا جس کو وہ موت سے پہلے کی دنیا میں نہ پاسکا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page