Urdu book · سفر حیات

سب سے بڑی بے خبری

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑی بے خبری مرنے والے مر گئے ۔ یہ سب کو معلوم ہے۔ مگر ایک اور خبر ایسی ہے جو کسی کو معلوم نہیں، وہ یہ کہ مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ ایک دن میرا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو انجام دوسروں کا ہو چکا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ لوگ دوسروں کو ہر روز مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنے آپ کو وہ اُس سے الگ (exempt) کر لیتے ہیں۔ گویا کہ ہر آدمی بلا اعلان اپنی زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ دوسروں کو مرنا تھا، وہ مر گئے، لیکن میں تو مرنے والا نہیں۔ یہ بے خبری ایک ہلاکت خیز بے خبری ہے۔ یہ وہ انوکھی بے خبری ہے جس کو شتر مرغ کی عادت (ostrich habit) کہا جاتا ہے۔ کوئی شخص اپنی موت کے بارے میں سوچے یا نہ سوچے، موت بہر حال اس کی طرف دوڑی چلی آرہی ہے۔ موت گویا کہ ایک انفرادی زلزلہ ہے۔ زلزلہ اعلان کے بغیر آتا ہے۔ اسی طرح موت بھی اعلان کے بغیر آتی ہے۔ زلزلے کے مقابلے میں ہر آدمی بے بس ہے۔ اسی طرح موت کے مقابلے میں بھی ہر آدمی بالکل بے بس ہے۔ موت اچانک آتی ہے اور وہ آدمی کے خیالی محل کو مکمل طور پر ڈھا دیتی ہے۔ انسان اگر یہ چاہے کہ وہ موت کو روک دے تو ایسا ہونے والا نہیں۔ موت کا اپنا قانون ہے، جو انسان کی مرضی کے بغیر اپنا کام کرتا ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی موت کے بارے میں بے حد حساس ہو۔ وہ ہر لمحہ موت کو یاد کرتا رہے۔ ہر روز جب شام آئے تو وہ محسوس کرے کہ اب اس کے لیے اگلی صبح مقدر نہیں۔ ہر روز جب وہ اپنے بستر پر سوئے تو اس کا احساس یہ ہو کہ اب دوبارہ اس دنیا میں میری نیند کھلنے والی نہیں۔ یہ احساس اگر آدمی کو ہو جائے تو وہ آخری حد تک ہل جائے گا۔ اس کے لیے جینا سادہ معنوں میں صرف جینا نہ رہے گا، بلکہ وہ موت کا انتظار بن جائے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو موت کے اچانک حملے سے پہلے موت سے باخبر ہو جائیں، وہ موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کر لیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page