صرف ایک بار
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف ایک بار موجودہ دینا میں لذت طلب ہے ، مگر یہاں لذت حصول نہیں ۔ یہاں منزل کی طرف دوڑنا ہے ، مگر یہاں کسی کے لیے اپنی مطلوب منزل پر پہنچنا مقدر نہیں ۔ ایک شخص زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوتا ہے۔ وہ کامیاب زندگی حاصل کرنے کے لیے اپنا سارا وقت اور اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر کامیاب زندگی پالینے کے باوجود اس کا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا۔ اپنے نشانہ کے مطابق ، جب آدمی قابل اعتماد جاب، اچھی کار ، فرنشڈ مکان ، حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی آرزوؤں کی تکمیل نہ کر سکا۔ اب زندگی اس کے لیے عیش نہیں رہتی ، بلکہ زندگی اس کے لیے صرف ذمہ داری‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ وہ پانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف کھونے کی طرف تیزی کے ساتھ اپنا سفر طے کر رہا ہے۔ آدمی اس گمان میں مبتلا ہے کہ وہ اپنے مطلوب کو حاصل کر رہا ہے ، حالاں کہ اس کے برعکس اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اپنے مطلوب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اپنا سفر برعکس سمت میں جاری کیے ہوئے ہے۔ اور جو شخص جتنا زیادہ تیز رفتار ہے اتناہی زیادہ تیزی کے ساتھ وہ اپنی منزل سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آدمی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس نے دنیا کو اپنا نشانہ بنایا۔ آدمی کے لیے صحیح بات یہ تھی کہ وہ آخرت کو اپنا نشانہ بنائے۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ دنیا صرف بیج بونے کی جگہ ہے ، وہ فصل کاٹنے کا مقام نہیں۔ جو آدمی دنیا کو چاہے، اس نے ایسی چیز کو چاہا جو سرے سے ملنے والی نہیں۔ عقل مند وہ ہے جو آخرت کا طالب بنے۔ کیوں کہ آخرت ہی حقیقی ہے، اور وہی وہ چیز ہے جس کو کوئی پانے والا موت کے بعد کی زندگی میں اپنے لیے پائے گا۔ زندگی کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ زندگی کسی کو صرف ایک بار ملتی ہے۔ آدمی کو صرف ایک بار عمل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس کے بعد صرف ابدی انجام ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے استعمال کے معاملہ میں انتہائی حد تک سنجیدہ اور محتاط ہو، وہ اپنی زندگی کا رخ متعین کرنے میں آخری حد تک با ہوش انسان بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader