ہر شخص موت کا مسافر
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر شخص موت کا مسافر ایک خبر میڈیا میں آئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں یہ خبر حسب ذیل الفاظ میں چھپی ہے: British reality TV star Jade Goody, who has been diagnosed with cancer, says she has started planning for her funeral, adding she wants“people to cry over me”. “Most people plan their weddings. But I am planning my funeral”, Goody told OK Magazine. Goody was diagnosed with cervical cancer in August 2008 just as she prepared to appear in the Indian version of the British reality TV show celebrity Big Brother. (New Delhi, 9th Oct 2008. p. 21) برطانی ٹی وی اسٹار جیڈ گوڈی اپنے پروفیشن کے اعتبار سے چوٹی (peak) پر تھیں۔ اچانک اگست 2008 کے طبی معائنے میں اُن کو بتایا گیا کہ اُن کو کینسر کی بیماری ہو چکی ہے، یعنی لاعلاج بیماری۔ انھوں نے اپنے مستقبل کے پروفیشنل منصوبوں کو منسوخ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب مجھے موت کی تیاری کرنی ہے۔ لوگ شادی کا منصوبہ بناتے ہیں، مجھ کو اپنی موت کا منصوبہ بنانا ہے: Most people plan their weddings. But I am planning my funeral. یہی ہر عورت اور ہر مرد کی کہانی ہے۔ لوگ زندگی کا جشن منانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں، حالاں کہ ہر ایک کا آخری انجام یہ ہے کہ جشن کی تکمیل سے پہلے اُس پر موت آئے اور وہ موجودہ دنیا سے نکل کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ قبل از موت مرحلۂ حیات کو صرف ایک وقتی سفر سمجھے اور اپنی ساری توجہ بعد از موت مرحلۂ حیات کی تیاری میں لگا دے۔ لوگ اپنا برتھ ڈے مناتے ہیں۔ حالاں کہ ہر سالگرہ صرف اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی کی عمر کا ایک سال اور کم ہو گیا۔ ایسی حالت میں، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ہر سال کی تکمیل پر آنے والی موت کو یاد کرے ۔ کیوں کہ اگلی سالگرہ کا آنا یقینی نہیں، لیکن موت کا آنا یقینی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس سب سے بڑی حقیقت کو یاد رکھے جس کا دوسرا نام موت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader