وقت ختم ہو گیا
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت ختم ہو گیا اسکول میں طالب علموں کا امتحان ہورہا تھا۔ طلبہ میز پر جھکے ہوئے اپنا اپنا سوال حل کر رہے تھے، یہاں تک کہ امتحان کا مقرر وقت پورا ہو گیا۔ فوراً ہی امتحان حال میں موجود ذمہ داروں کی طرف سے اعلان کیا گیا— لکھنا بند کرو، وقت ختم ہو گیا: Stop writing, time is over. یہ معاملہ جو امتحان حال میں پیش آیا، وہی وسیع تر زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد ایک بڑے امتحان حال میں ہیں۔ یہاں ہر ایک اپنا اپنا امتحان دے رہا ہے۔ ہر ایک کی ایک مدت مقرر ہے۔ یہ مدت پوری ہوتے ہی خدا کا فرشتہ آتا ہے اور خاموش زبان میں اعلان کرتا ہے کہ تمھارے عمل کا وقت ختم ہو گیا۔ اب تم کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے خالق و مالک کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا ہے۔ تعلیمی امتحان کا معاملہ جو ہر طالب علم کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ ایک مثال ہے جس سے ہر عورت اور ہر مرد وسیع تر معنوں میں زندگی کے امتحان کے معاملے کو سمجھ سکتے ہیں۔ زندگی حالت امتحان کا نام ہے، اور موت اس کا نام ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کا انجام پانے کے لیے اگلی دنیا میں بھیج دیا جائے۔ موت سے قبل کی زندگی دراصل امتحان کا دور ہے اور موت کے بعد کی زندگی امتحان کا رزلٹ نکلنے کا دور۔ جو شخص امتحانی دور حیات میں ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزارے گا، وہی اگلے دور حیات میں بہتر انجام کو پائے گا۔ جولوگ اس معاملے میں غافل ثابت ہوں، اُن کو بعد کے دور حیات میں حسرت اور مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ امتحان حال کے اندر ایک طالب علم جس نفسیات کے ساتھ رہتا ہے، اُسی نفسیات کے ساتھ ہم کو اپنی پوری زندگی میں رہنا ہے۔ ہر ایک کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے دیے ہوئے پرچے کو درست طور پر حل کرے، تا کہ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد جب اُس کا رزلٹ سامنے آئے تو وہ اُس کے لیے کامیابی کی خوش خبری ہو، نہ کہ ناکامی کا اعلان۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader