سفر حیات
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ کہتا ہے : مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا ) ، جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے : وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں ) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے : وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکال لیں گے ) ۔ یہ تین بار مٹی ڈالنا ، اس پورے معاملہ کا کلائیکس ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔ جنت کا تعارف لارڈ میون نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ وہ ایک بار ایک جزیرے میں تھے ۔ وہاں انھیں غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا حسین تھا کہ میں نے چاہا کہ میں اس کو ہمیشہ دیکھتا رہوں: I wish I could see this sunset forever فطرت (nature) بے حد حسین ہے۔ اس کو دیکھنے سے کبھی آدمی کا جی نہیں بھرتا۔ آدمی چاہتا ہے کہ نیچر کو مستقل طور پر دیکھتا رہے۔ مگر زندگی کے تقاضے اس کو مجبور کرتے ہیں، اور اس سے سیر ہوئے بغیر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ نیچر موجودہ دنیا میں جنت کی نمائندہ ہے۔ وہ آخرت کی جنت کی ایک جھلک ہے، جنت میں جو لطافت ، جو حسن ، جو بے پناہ کشش ہوگی ، اس کا ایک دُور کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں نیچر کی صورت میں ہوتا ہے۔ نیچر ہم کو جنت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ ہم کو بتاتی ہے کہ دنیا میں جنت والے عمل کرو تا کہ آخرت میں جنت کو پاسکو۔ دنیا میں آدمی جنت کی جھلک سے بھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ مگر آخرت کی کامل دنیا میں ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ جنت سے آخری حد تک لطف اندوز ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader