Urdu book · سفر حیات

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا اُس کا حکم تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے بولانہ جائے مگر عمر کے ساٹھویں برس پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔ اسپین کے ڈکٹیٹر فرینکو کئی دن بیماری سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار اس دنیا سے چل بسے۔ فرینکو کا عرصہ حیات لمبا کرنے کی غرض سے اسپین میں ڈاکٹروں نے جو رات دن کوشش کی اُس سے میڈیکل حلقوں میں بڑی زبردست بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا اُس وقت جب کہ قدرت کے تمام قوانین کے مطابق اُن کے حواس جواب دے چکے تھے۔ انہیں کچھ ہفتہ پیشتر ہی مرنے دینا چاہیے تھا؟ یا کیا ڈاکٹر اس بات میں حق بجانب تھے کہ ہر قسم کی میڈیکل امداد اُنہیں مہیا کر کے کچھ دیر تک اور جسمانی طور پر زندہ رکھنے کے لئے اُنکے درجہ حرارت کو جزوی طور پر منجمد کر دیتے۔ علاوہ ہریں کیا یہ بات اخلاقی اصول کے مطابق ہے کہ قوم کے کسی لیڈر کی زندگی مصنوعی طور پر لمبی کرنا چاہیے یا کہ اُسے لمبا کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ میڈیسن کی دنیا میں ایک زبردست بحث چھڑنے کا سبب ہوسکتی ہے۔ بہت سے اسکالروں نے اس موضوع پر بحث کی ہے۔ یہ امر غیر معمولی طور پر اتفاقیہ ہے کہ اس معاملہ پر ایک کتاب ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف پر 13 سال لگ گئے۔ مشہور مورخ پال مرے کینیڈال نے یہ کتاب فرانس کے 11 ویں بادشاہ لوئی کے بارے میں لکھی ہے جس کو انتقال کیے ہوئے 500 برس ہو چکے ہیں۔ لوئی ایک ایسا بادشاہ تھا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زندگی کو طوالت دی جائے۔ فرینکو کی مانند بادشاہ لوئی ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا، جس کی مرکزی سرکار بہت مضبوط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page